سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 21
38 37 نہ صرف یہ کہ اپنا کام خود کرتیں بلکہ دوسروں کے کام میں بھی ہاتھ بٹانا آپ کی عادت تھی۔محترمہ آمنہ بیگم چوہدری عبداللہ خان صاحب مرحوم کہتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اماں جان ہمارے گھر آئیں۔میری والدہ دودھ بلو رہی تھیں۔چھوٹا بھائی رورہا تھا اماں جان نے بڑے پیار سے کہا :- اُٹھ کر بچے کو لے لو۔“ اور خود بیٹھ کر دودھ بلو نے لگیں۔خود ہی مکھن نکالا۔اس کے بعد کافی عرصہ تک حضرت اماں جان کا یہ معمول رہا کہ آپ بہشتی مقبرہ جاتے ہوئے کسی نہ کسی عورت کو ہمارے گھر چھوڑ جاتیں جو دودھ وغیرہ بلوتی اور واپسی پر ساتھ لے جاتیں۔غنا اور ایثار حضرت مصلح موعود فرماتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو اس وقت ہمارے پاس گزارے کا کوئی سامان نہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس وقت آرام ہے۔سے فائدہ نہ ہوا مگر فلاں دوائی سے اب آرام ہے۔حضرت اماں جان نے بڑے جوش سے فرمایا: تم یہ کیوں نہیں کہتیں کہ اس تدبیر میں خدا کی مرضی شامل تھی اور اب اُس کے فضل سے اور ایک بار کیا ہوا کہ ایک عورت نے ایک پیالہ حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کیا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور کہا اس میں پانی ڈال کر پیجیے۔آپ نے روک دیا اور فرمایا! ہم ایسا نہیں کرتے۔یہ شرک ہے۔“ ایک خاتون روزانہ ریڈیو پر خبریں سن کر اماں جان کو سنایا کرتی تھیں۔ایک دن کوئی خبر سنا کر بولیں۔صدقے جاؤں ریڈیو ایجاد کرنے والے کے، کیسی اچھی چیز ایجاد کی۔گھر بیٹھ کر پوری دنیا کی خبریں سن لو، آواز سن لو۔حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا صدقے جاؤں اپنے ربّ کے جس نے انسان کو اتنی عقل دی کہ وہ ایسی چیزیں ایجاد کر سکے۔کچھ قرض بھی تھا۔حضرت اماں جان نے جماعت سے نہیں کہا کہ وہ یہ قرض ادا کریں بلکہ آپ کی مہمان نوازی آپ کے پاس جوز یور تھا اسے بیچ کر حضور کا قرض ادا کر دیا۔میں اس وقت بچہ تھا اور میرے لیے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقع نہ تھا مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کتنا محبت کرنے والا اور قربانی کرنے والا ساتھی دیا۔شرک سے نفرت آپ کو شرک سے سخت نفرت تھی جس کی دو تین مثالیں ہم آپ کو سناتے ہیں۔ایک دفعہ کوئی عورت اپنے کسی بیمار عزیز کا حال سنارہی تھی۔آخر میں بولی۔کسی علاج آپ کو مہمان نوازی کی بہت عادت تھی۔جو بھی گھر آتا اس کی خاطر کرتیں۔مہمانوں کا خیال رکھتیں اور ہر ایک کی عادت کے مطابق اس کو چیز پیش کرتیں۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال جب پہلے پہل قادیان آئے تو چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے۔اس زمانہ میں حضرت اماں جان مہمان نوازی میں خاص طور پر حصہ لیتیں۔سب مہمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ گول کمرے میں کھانا کھاتے تھے۔پہلے دن جب چوہدری صاحب نے کھانا کھایا تو کھانے کے بعد حضرت اماں جان نے کسی شخص کو بھیج کر پوچھا کہ