سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 17
30 29 آپ یہ بھی فرمایا کرتیں کہ پہلے بچے کی تربیت پر پورا زور لگاؤ دوسرے بچے اس کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک چلیں گے۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ جن کی تربیت اماں جان کی گود میں ہوئی فرماتے کہ حضرت اماں جان کا یہ اصول تھا کہ بچوں کو مغرب کے بعد گھر سے باہر نہ رہنے دیتیں۔اس اصول کی سختی سے پابندی فرماتیں۔یہ حکم تھا کہ مغرب کی نماز پڑھ کر سیدھے گھر آؤ پھر باہر نہیں جانا سوائے عشاء کی نماز کے لیے۔اور بڑے ہونے تک یہی پابندی رہتی۔اور حضرت اماں جان کی تربیت کا انداز بالکل الگ تھا۔آپ ڈانٹ ڈپٹ کر بالکل کوئی بات نہ کہتیں۔ایک بار حضرت اماں جان نے کچھ بچوں کو کھانے پر بلایا ( یہ آپ کا دستور تھا) اس زمانہ میں زمین پر ہی دستر خوان بچھا دیا جاتا اور سب بیٹھ کر کھانا کھاتے۔مجھے بھی کہا کہ آؤ سب کے ساتھ کھانا کھاؤ۔میری عمر اس وقت بہت چھوٹی تھی اور جیسا کہ بچے ضِدّ کرتے ہیں میں نے بھی بچپن کی ناسمجھی کی وجہ سے انکار کر دیا۔حضرت اماں جان نے ڈانٹنے کے بجائے فرمایا:- اچھا نہ کھاؤ ، لیکن یاد رکھنا کہ پھر بعد میں کھانا نہیں ملے گا۔آخر کچھ دیر جھکنے کے بعد میں بھی ان بچوں کے ساتھ شامل ہو گیا۔حضرت اماں جان تربیت کرنے کے لیے اس بات کا بھی خیال رکھتیں کہ گھر کے بچے اور دوسری یتیم لڑکیاں جو آپ کے گھر پل رہی تھیں اچھی عادتوں والے بچوں کے ساتھ ہی کھیلیں تا کہ ان میں کسی دوسرے گندے بچے کی بری عادت نہ پڑے اور بچے بری صحبت سے دور رہیں۔آپ جب بھی کسی بچے کی کوئی بری بات دیکھتیں تو اس طرح نصیحت فرماتیں کہ اس کی اصلاح بھی ہو جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کے سامنے شرمندگی بھی نہ اُٹھانی پڑے۔حضرت اماں جان کے دل میں استاد کی بہت عزت تھی اور آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ بچوں کے دل میں بھی استاد کا احترام ڈالا جائے اور بچے اپنے استاد کی عزت کریں۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے استاد تھے۔ایک دن ان کی بیوی حضرت اماں جان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔میاں صاحب جو اس وقت ابھی بہت چھوٹے تھے ایک ربڑ کا سانپ لیے ہوئے آگئے اور ایک دم سے اسے ان کے سامنے چھوڑ دیا۔اس طرح اچانک ایک سانپ دیکھ کر وہ خوف سے کانپنے لگیں۔حضرت اماں جان نے ان کی حالت دیکھ کر انہیں تسلی دی کہ ” ہو! یہ تو ربڑ کا سانپ ہے تم ایسے ہی ڈر رہی ہو۔“ اور ساتھ ہی اپنے بیٹے سے فرمایا :- میاں محمود ! یہ تمہارے استاد کی بیوی ہیں۔یہ تم نے کیا کیا ؟“ وہ شرمندہ ہو گئے اور معافی مانگ کر بولے:۔بچوں سے پیار 66 ”اماں جان مجھ سے بھول ہوگئی۔“ اگر تربیت کے معاملے میں آپ کی کڑی نظر تھی تو دوسری طرف بچوں سے پیار بھی بہت تھا۔ان کی چھوٹی چھوٹی بات کا بھی بہت احساس کرتیں۔اپنے بچوں کے علاوہ جماعت کے بھی سارے بچوں سے آپ کو بہت محبت تھی۔سب کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتیں۔انہیں کھلا پلا کر بہت خوش ہوتیں۔ان سے خوشی کی باتیں کرتیں۔لطیفے سنا تیں ، پہیلیاں بوجھواتیں، کہانیاں سنواتیں ، خود بھی بڑے شوق سے سنتیں۔ایک دن عرفانی صاحب کی بیوی جن کا ذکر پہلے آچکا ہے اماں جان کے پاس آئیں اُس وقت حضرت مصلح موعود اپنی چھوٹی عمر میں حضرت اماں جان کے پاس بیٹھے تھے اور حضرت اماں