سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 16
28 27 کہ پہلے آپ ان کے گھر تشریف لے جائیں پھر انہیں بلائیں۔حضرت اماں جان نے اپنے امام کا حکم مانا۔ان عورتوں سے ملنا شروع کیا اور اس طرح خدا کے فضل سے بہت سی رشتہ دارخواتین احمدی ہوگئیں۔حضرت اماں جان کا یہ طریق تھا کہ جب بھی آپ نے کسی دوسرے شہر جانا ہوتا تو حضور سے اجازت لے کر جاتیں اور ایسا ہی حضرت مصلح موعود کے وقت بھی ہوتا رہا۔حضرت مصلح موعود گو آپ کے بیٹے تھے لیکن ان کے امام جماعت احمد یہ بننے کے بعد حضرت اماں جان نے ان کی اسی طرح عزت اور فرمانبرداری کی جیسا کہ امامِ وقت کی ہونی چاہیے۔آپ کی مالی قربانیاں تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یا آپ کے بعد ایسی نہیں ہوئی جس میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیا ہو۔تربیت اولاد تربیت اولاد کے متعلق آپ کا نمونہ مثالی تھا۔اس بارہ میں حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اپنے تجربات اس طرح بتاتی ہیں۔تربیت کے اصولوں کے متعلق میں نے بہت سے لوگوں کو غور سے دیکھا، لیکن حضرت اماں جان سے بہتر کسی کو بھی نہ پایا۔آپ نے سکول کالج میں تعلیم نہ پائی تھی ،گھر میں ہی معمولی اردو لکھنا پڑھنا سیکھا تھا لیکن اخلاق اور تربیت کے متعلق جو آپ کے اصول ہیں ان کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ محض خدا کا فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت کا سلسلہ احمدیہ کے لیے آپ نے بہت بڑی بڑی مالی قربانیاں دیں۔جب حضرت نتیجہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ سب کچھ کہاں سے سیکھا اور کس سے سیکھا۔بچوں مسیح موعود علیہ السلام نے منارة امسیح بنانے کی تحریک کی اور آپ نے ایک سو ایک خدام کی تربیت کا پہلا اصول یہ تھا کہ بچے پر مکمل اعتماد ظاہر کر کے ماں باپ کے اعتبار کا بھرم سے فرمایا کہ آپ احباب سوسور و پیہ دیں، لیکن حضرت اماں جان نے ایک ہزار روپے کا وعدہ لکھوایا اور اپنا ہیلی کا ایک مکان بیچ کر یہ رقم ادا کر دی۔جب حضرت مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے تحریک جدید جاری فرمائی اور چندہ کا اعلان کیا تو حضرت اماں جان نے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دفتر اول میں وفات تک 3142 روپے کا چندہ ادا کیا۔اس کے علاوہ جو بھی چندہ کی تحریک ہوتی آپ اس میں ضرور حصہ لیتیں اور اچھی خاصی رقم ادا کرتیں۔مثلاً سلسلہ کی بیوت الذکر مشن لنگر خانه، دفتر لجنہ اماءاللہ ، بیوت الذکر لندن و برلن وغیرہ وغیرہ۔لنگر خانے کے لیے دیگوں کا مہیا کرنا۔اخبار الفضل کے لیے امداد۔غرض کہ کوئی بھی مالی رکھنا، جھوٹ سے نفرت، غیرت دکھانا اور روپے پیسے اور دنیاوی چیزوں کی پرواہ نہ کرنا آپ کا پہلا سبق ہوتا تھا۔ہم لوگوں سے بھی یہی فرماتی رہیں کہ بچے میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی حرج نہیں جس وقت بھی روکا جائے گا رُک جائے گا۔اگر ایک بار تم نے کہنا ماننے کی عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امیدرہے گی۔ہمیں بھی یہی سکھا رکھا تھا۔ہم لوگ یہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ماں باپ کی غیر موجودگی میں ، ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریں۔حضرت اماں جان ہمیشہ یہ فرمایا کرتیں کہ میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے۔یہی اعتبار ہمیں ہمیشہ جھوٹ سے بچاتا تھا بلکہ اس سے اور نفرت آتی تھی۔مجھے آپ کا حتی کرنا کبھی یاد نہیں۔