سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 12 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 12

20 19 5۔حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ 25 جون 1904ء کو پیدا ہوئیں۔آپ کے متعلق مشہور الہام ہے ”ذحت کرام۔“ آپ کی وفات 6 رمئی 1987 ء کو ہوئی۔آپ کے ان پانچوں بچوں کو خدا تعالیٰ نے لمبی عمر سے نوازا۔ان سب کو اولا د بھی عطا کی اور اماں جان نے اپنی دُور کی نسل بھی دیکھی یعنی اپنے پڑپوتے ، پڑپوتیاں، پڑانوا سے اور پڑنواسیاں دیکھیں۔یہاں تک کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی زندہ نسل کی تعداد ایک سو گیارہ تھی اور 20 فوت ہو چکے تھے یعنی کل اولا دایک سو اکتیس ہے۔یہ ایک بہت ہی غیر معمولی تعداد ہے جو کسی کو اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھنی نصیب ہوئی۔آپ کو خدا تعالیٰ نے بڑی عزتوں سے نوازا۔آپ کے خاوند خدا کے مامور تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کے بڑے بیٹے کو جماعت احمدیہ کی امامت عطا کی اور مصلح موعود کا خطاب دیا۔1944ء میں جب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مصلح موعود ہونے کا دعوی کیا تو حضرت اماں جان نے اظہار تشکر کے طور پر تحریر کیا:- میں اپنے خدا کا کس طرح شکر یہ ادا کروں۔کہ اس نے مجھ نا چیز کو اپنے پاک و بزرگ مسیح کی زوجیت کے لئے چُنا۔اور میرے سر کو اپنے انتہائی انعام کے تاج سے مزین فرمایا۔اور پھر میں اپنے خدا کا کس طرح شکر یہ ادا کروں کہ اس نے میرے بیٹے محمود کو مصلح موعود کے مقام پر فائز کر کے میری عمر کے آخری حصہ میں مجھے ایک دوسرا تاج عطا کیا۔پس مجھے میرے اوپر کی طرف سے بھی تاج ملا اور میرے نیچے کی طرف سے بھی۔اور یہ میرے خدا کا سراسر فضل و احسان ہے جس میں میری کسی خواہش اور کسی عمل اور کسی استحقاق کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں اور یہ دوتاج میرا ہی حصہ نہیں ہیں بلکہ میری پیاری جماعت بھی ان میں میرے ساتھ برابر کی حصہ دار ہے مگر خدا کا ہر خاص و عام انعام اپنے ساتھ خاص ذمہ داریوں کو بھی لاتا ہے اور میری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی اور جماعت کو بھی ان اہم ذمہ داریوں کے پورا کرنے کی توفیق دے جو اس کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہیں۔اے ہمارے خدا تو ایسا ہی کر۔آمین والسلام ام محمود 5 اپریل 1944ء الفرقان مصلح موعود نمبر اپریل 1944 ، صفحہ 3) پھر ایک اور انعام اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد آپ کو عطا کیا کہ آپ کا وہ پوتا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا :- نَافِلَةٌ لَّكَ 66 اس کو آپ نے اپنا بیٹا بنا کر خود ہی پرورش کی اور اپنے ہاتھوں سے تربیت دی۔اللہ تعالیٰ نے اسے بھی جماعت احمدیہ کا تیسرا امام بنا دیا۔یعنی حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ۔ان کی وفات کے بعد آپ کے ہی ایک اور پوتے یعنی حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کو جماعت کا چوتھا امام مقرر کیا۔(اور اب اللہ تعالیٰ نے آپ کے پڑپوتے اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے پوتے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو پانچواں امام مقرر فرمایا ہے۔)