سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 7 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 7

10 محبت ایسی تھی جو عام دیکھنے میں نہیں آتی۔ایک بار جب حضرت اماں جان نماز پڑھنے لگیں تو نیت باندھنے سے پہلے آپ نے حضرت اقدس سے کہا کہ :۔میں ہمیشہ یہ دُعا کرتی ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے آپ سے پہلے اُٹھا لے۔“ سی سن کر حضور نے فرمایا:۔” اور میں ہمیشہ یہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں۔“ اور ایسا ہی ہوا حضرت اماں جان سے چوالیس سال پہلے آپ کی وفات ہو گئی۔دل تو خون کے آنسور ورہا تھا لیکن زبان پر صرف انا للہ تھا اور بس۔بلکہ وہاں پر موجود کچھ عورتوں نے اونچی آواز میں رونا شروع کیا تو آپ نے بڑے زور سے انہیں ڈانٹا اور فرمایا:- ” میرے تو خاوند تھے میں نہیں روتی تم رونے والی کون ہو۔“ کچھ دیر بعد آپ نے اپنے بچوں کو جمع کیا اور انہیں نصیحت فرمائی:۔بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لیے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔انہوں نے آسمان پر تمہارے لیے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے 66 جو تمہیں وقت پر ملتار ہے گا۔“ حضور کا جنازہ لاہور سے قادیان لے جایا گیا۔بٹالہ سے بیل گاڑی پر رکھا گیا حضرت اماں جان بھی رتھ پر سوار ساتھ ہی تھیں۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ڈیوٹی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر حضرت اماں جان کا صبر ساتھ تھے۔آپ سارا راستہ دعاؤں میں مشغول رہیں۔مئی 1908ء کی 26 تاریخ تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حالت بہت خراب ہوگئی۔حضرت اماں جان تڑپ تڑپ کر دعائیں کر رہی تھیں۔کبھی سجدہ میں گر جاتیں کبھی بے قراری سے ٹہل کر دعا کرتیں کہ اے حتی و قیوم خدا! میری زندگی بھی تو ان کو دے دے۔لیکن الہی تقدیر کے مطابق آپ کا وقت آن پہنچا تھا۔جب آپ پر نزع کی حالت شروع ہوگئی تو حضرت اماں جان نے دعا کی: اے میرے پیارے خدا ! یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں ، لیکن تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔“ 66 آپ بار بار یہ الفاظ کہتی جاتی تھیں آخر دس بجے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب کو تڑپتا چھوڑ کر اپنے آسمانی آقا سے جاملے۔حضرت اماں جان نے اس وقت ایسا صبر کا نمونہ دکھایا جس کی مثال نہ مل سکے گی۔جنازہ کو بہشتی مقبرہ کے ساتھ والے باغ میں رکھا گیا۔حضرت اماں جان چہرہ مبارک دیکھنے آئیں تو پائینتی کی طرف کھڑے ہو کر نہایت وقار والی آواز میں بولیں تیری وجہ سے میرے گھر میں فرشتے اُترتے تھے اور خدا کلام کرتا وو تھا۔یہ گواہی تھی جو حضرت اماں جان نے حضرت اقدس کی سچائی کی دی اور اس سے آپ کے ایمان کی مضبوطی اور حضرت اقدس سے عقیدت اور محبت کا پتہ چلتا ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سچے دل سے ایمان رکھتی تھیں اور آپ کے دعوئی اور الہامات کو سچا مانتی تھیں۔کبھی بھی کسی قسم کا شک یا شبہ آپ کے دل میں پیدا نہ ہوا۔تو بچو ! حضرت اماں جان پہلے دن سے ہی حضرت صاحب پر ایمان لے آئی تھیں اور دعوی سے پہلے بھی آپ کو بزرگ مانتی تھیں۔اس جگہ ہم آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سُناتے