سوانح حضرت علیؓ

by Other Authors

Page 13 of 14

سوانح حضرت علیؓ — Page 13

23 22 تھے تو وہ سانس تک نہیں لے سکتا تھا۔وہ تقریبا فربہ اندام تھے۔ان کی کلائیاں اور ہاتھ مضبوط تھے۔نیز دل کے مضبوط تھے۔جس شخص سے کشتی لڑتے اس کو پچھاڑ دیتے تھے۔بہادر تھے اور جس سے جنگ میں مقابلہ کرتے اس پر غالب آتے تھے۔ان کے تمام محاسن اخلاق میں ایک وفا تھی۔ان کے محاسنِ اخلاق میں ایک خلق ان کی غیر معمولی دلیری تھی۔لوگوں کی خوب خاطر مدارت کرتے تھے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت علی کے بارے میں فرماتے ہیں: علی تو جامع فضائل تھا اور ایمانی قوت کے ساتھ تو ام تھا۔“ وو (حجة الله ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 182) قد میانہ، رنگ گندم گوں ، آنکھیں بڑی بڑی ، چہرہ پر رونق و خوبصورت ، سینہ علیه چوڑا ، باز و اور تمام بدن گٹھا ہوا ، پیٹ بڑا اور نکلا ہوا۔سر پر بال بہت کم تھے اور شاید تمام عمر میں ایک مرتبہ بالوں میں مہندی کا خضاب کیا تھا۔ازواج واولاد حضرت فاطمۃ الزہرا کے بعد حضرت علی نے مختلف اوقات میں حضرت معاویہؓ نے ضرار اسدی سے کہا کہ مجھ سے حضرت علی کے اوصاف بیان کرو۔متعدد شادیاں کیں اور ان سے بکثرت اولاد ہوئی۔ازواج میں کے نام یہ ہیں۔امام حسن ، امام حسین ، محمد بن حنیفہ، عمر ☆۔☆ انہوں نے کہا کہ امیر المومنین ! اس سے مجھے معاف فرمائیے۔معاویہ نے اصرار کیا۔ضرار حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، لیلی بنت مسعود، اسماء بنت عمیر وغیرہ ہیں۔بولے۔اگر اصرار ہے تو سینے۔وہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔فیصلہ کن بات کہتے تھے۔جبکہ آپ کے 17 لڑکیاں اور 14 لڑکے تھے۔ان میں سے جن سے سلسلہ نسل جاری رہا ان عادلانہ فیصلہ کرتے تھے۔ان کے ہر جانب سے علم کا سر چشمہ پھوٹتا تھا۔ان کے تمام اطراف سے حکمت ٹپکتی تھی۔دنیا کی دلفریبی اور شادابی سے اجنبیت رکھتے اور رات کی وحشت نا کی سے انس رکھتے تھے۔بڑے رونے والے اور بہت زیادہ غور وفکر کرنے والے تھے۔چھوٹا لباس اور موٹا کھانا پسند تھا۔ہم میں بالکل ہماری طرح رہتے تھے۔جب ہم ان سے سوال کرتے تھے تو وہ ہمارا جواب دیتے تھے اور جب ہم ان سے انتظار کی درخواست کرتے تھے تو وہ ہمارا انتظار کرتے تھے۔باوجود یہ کہ اپنی خوش خلقی سے ہم کو اپنے قریب کر لیتے تھے اور وہ خود ہم سے قریب ہو جاتے تھے۔لیکن خدا کی قسم ان کی ہیبت سے ہم ان سے گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔وہ اہل دین کی عزت کرتے تھے۔غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ان کے انصاف سے ضعیف نا امید نہیں ہوتا تھا۔رض یہ سن کر معا و بیڈ رو پڑے اور فرمایا " خدا ابوالحسن پر رقم کرے۔خدا کی قسم اوہ ایسے ہی تھے۔“