سوانح حضرت علیؓ

by Other Authors

Page 5 of 14

سوانح حضرت علیؓ — Page 5

7 6 غزوہ بدر حضرت علی کی غزوات میں شرکت اور جرات و بہادری کے جوہر مسلمان ستر قیدیوں اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔حضرت فاطمہ سے شادی جنگ بدر کے بعد اسی سال یعنی 2 ہجری میں حضرت علی کو آنحضرت کی مزید قربت کا شرف حاصل ہوا۔وہ اس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بہت ہی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ الز ہرا سلسلہ غزوات میں سب سے پہلا معرکہ بدر کا معرکہ ہے۔اس غزوہ کا نکاح حضرت علیؓ سے کیا۔نکاح کے دس گیارہ ماہ بعد با قاعدہ رخصتی ہوئی۔حضرت علیؓ نے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 313 صحابہ کے ساتھ مدینہ سے بدر کے میدان اپنی زرہ بیچ کر شادی کے انتظامات کیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نکاح کی طرف روانہ ہوئے۔مسلمانوں کے لشکر کے آگے دو سیاہ جھنڈے لہرا رہے تھے۔ان میں پڑھایا۔دونوں میاں بیوی کو خیر و برکت کی دعا دی۔حضرت حارث بن نعمان کے سے ایک جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔جنگ کے آغاز میں عرب کے دستور کے مطابق مکان میں حضرت علیؓ اپنی زوجہ مبارکہ کو لے کر رہائش کے لیے ٹھہرے۔حضرت فاطمہ مبارزت کے موقع پر ( عرب میں دستور تھا کہ میدان جنگ میں جب دونوں لشکر صف بندی مختصر جہیز کے سامان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے کبھی نہ ختم ہونے کر لیتے تو ایک یا ایک سے زائد بہادر ترین افراد آگے آتے اور مد مقابل کو جنگ کے لیے والے خزانے کے ساتھ اپنے گھر سے رخصت ہوئیں اور حضرت علیؓ کے ساتھ عائلی بلاتے اور وہ الگ الگ ایک دوسرے کے ساتھ بہادری کے جوہر دکھاتے۔اس انفرادی زندگی کا آغا ز فرمایا۔مقابلہ کو ”مبارزت کہا جاتا تھا) قریش کی طرف سے تین بہادر مسلح افراد آئے اور مسلمانوں کو للکارا کہ کسی میں ہمت ہے تو ہمارے مقابل پر آئے۔مشرکین کی طرف سے غزوہ اُحد 3 ہجری میں جنگ اُحد ہوئی۔حضرت علیؓ نے اس جنگ میں بھی اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ایک موقع پر حضرت مصعب بن عمیر نے جب جھنڈے آنے والے عتبہ، شیبہ اور ولید تھے۔انصار مدینہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کو نیچے گرنے سے بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو اس جھنڈے کو بہادری کے اجازت لے کر ان کا مقابلہ کرنا چاہا تو عقبہ اور شیبہ نے کہا کہ یہ ہماری ٹکر کے لوگ نہیں، ساتھ آگے بڑھ کر تھامنے والے حضرت علی ہی تھے۔ہمارے مقابلہ کے لوگ بھیجے جائیں۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریبی مشرکین کے علمبردار ابوسعد بن طلحہ نے جب مقابلہ کے لیے لکا را تو حضرت علیؓ نے عزیزوں میں سے تین کے نام لیے اور فرمایا کہ حمزہ! تم اٹھو ، علی ! تم اٹھو اور عبیدہ! تم اٹھو۔ایسا وار کیا کہ وہ زمین پر گر گیا اور تڑپنے لگا۔اسی جنگ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے یہ مہاجرین ان کے مقابل پر آئے۔حضرت حمزہ اور حضرت زخمی ہو کر گر گئے تو حضرت علیؓ اور حضرت طلحہ چند صحابہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علی نے اپنے ایک ہی وار میں عقبہ اور ولید کا خاتمہ کر دیا اور حضرت علیؓ نے بعد میں اپنے کو ایک پہاڑ پر بحفاظت لے گئے۔حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم دوسرے ساتھی حضرت عبیدہ کی مدد کرتے ہوئے شیبہ کا بھی کام تمام کیا۔اس کے بعد عام دھوئے۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے خود کی کڑیاں آپ کے رخسار مبارک سے نکالیں۔جنگ کا آغاز ہوا اور حضرت علیؓ نمایاں جنگجو بہادروں میں سے ایک تھے۔اس جنگ سے اسی دوران حضرت فاطمہ بھی مدینہ سے اُحد کے میدان میں پہنچ چکی تھیں۔حضرت فاطمہ