سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 10 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 10

16 ہو گئے 17 درہ میں صرف چند مسلمان رہ گئے۔جب کافروں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے پیچھے۔مسلمان اتنی دیر میں دوبارہ اکٹھے ہو چکے تھے لیکن کا فرمکہ واپس جانے کے لیے روانہ حملہ کرنے کے لیے درہ خالی ہے تو انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔اس حملہ سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور کافر رسول اللہ تک پہنچ گئے۔آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا اور دو لڑائی شروع ہونے سے پہلے جب اکیلے اکیلے آدمی کا مقابلہ ہو رہا تھا تو دانت ٹوٹ گئے۔آپ زخمی ہو کر بعض شہیدوں کی لاشوں کے درمیان گر پڑے۔مسلمان ابوبکر کے بیٹے عبدالرحمن کافروں کی طرف سے سامنے آئے اور مسلمانوں میں سے کسی آپ گو ادھر ادھر ڈھونڈنے لگے۔آخر حضرت ابو بکر کی آپ پر نظر پڑی اور آپ نے بعض کو مقابلہ کے لیے آواز دی۔حضرت ابو بکرؓ نے تلوارمیان سے نکالی اور خود مقابلہ اور صحابہ کی مدد سے رسول اللہ کو اٹھایا۔لوہے کے خود کی کڑیاں جو چہرے میں بجھ گئی پر جانے کے لیے حضور سے اجازت مانگی مگر حضور نے اجازت نہ دی۔کافروں کی تھیں نکالی گئیں اور آپ کے چہرے سے خون پو نچھا۔اس دوران کافروں نے ایک اور فوج کا پیچھا کرنے کے لیے ستر مسلمان بھجوائے گئے۔ان میں حضرت ابوبکر بھی حملہ کیا مگر صحابہ کے ایک گروہ نے سخت مقابلہ کر کے ان کو پیچھے دھکیل دیا۔کچھ وقفہ ملا تو شامل تھے۔رسول اللہ بعض صحابہ کے ساتھ ایک پہاڑی پر پہنچے۔اس وقت تک کافروں کو پتہ نہیں تھا غزوہ خندق کہ رسول اللہ زندہ ہیں یا نہیں۔627ء میں قریش مکہ کی سرداری میں تیرہ ہزار فوجی اور بعض تاریخوں میں لکھا ہے ابوسفیان نے جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے قریب آکر آواز دی کہ کیا تم کہ دس ہزار فوجی جس میں عرب کے بہت سے قبیلوں مثلاً بنو غطفان ، بنواسد، بنوسلیم میں محمد ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے منع کیا۔پھر ابوسفیان کے لوگ شامل تھے ، مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ان کے مقابل پر مسلمان بہت تھوڑے نے پوچھا کیا ابوبکر ہیں؟ ادھر سے سب چپ رہے۔پھر پوچھا کیا تم میں عمر ہیں؟ کسی تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے مشورہ پر عمل کرتے نے جواب نہ دیا۔ابوسفیان نے چلا کر کہا ، ” اس کا مطلب ہے کہ سب مارے گئے ہوئے مدینہ کے اردگرد ایک خندق کھدوائی اور تین ہزار مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کے ہیں۔حضرت عمر اب چپ نہ رہ سکے اور کہنے لگے۔”او خدا کے دشمن ہم سب زندہ اندر رہتے ہوئے ، شہر کو بچانے کی تیاری کی۔کافروں کی فوج نے مدینہ کو اپنے گھیرے ہیں۔ابو سفیان نے کہا کہ بدر کا جواب ہے۔ہیل کی ہے۔لات کی ہے (یہ خانہ کعبہ میں لے لیا۔ایک مہینے تک وہ مدینہ کو اپنے گھیرے میں لیے رہے۔اس عرصہ میں بھی میں رکھے گئے بتوں کے نام تھے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر حضرت کبھی چھوٹی موٹی لڑائی ہو جاتی۔آخر ایک مہینہ گزرنے پر ایک روز تیز آندھی اور سخت عمر نے جواب دیا۔”اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔“ ابوسفیان نے بارش ہوئی۔کھانا پکانے کے لیے آگ جلانا بھی مشکل ہو گیا۔کافروں کے جیسے اڑ کہا کہ اگلے سال ہم پھر بدر میں ملیں گے۔حضرت عمر نے جواب دیا ”ضرور“۔گئے۔کھانا پکانے کے برتن آندھی میں گم ہو گئے اور سواری کے جانور بھی آندھی کے ڈر 66