سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 8 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 8

11 10 مبارک میں خود ( یہ لوہے کی بنی ہوئی سرکی ٹوپی ہوتی ہے جسے جنگ میں اوڑھا حضرت علی کے ہاتھوں فتح ہوا۔جاتا ہے) کی دونوں کڑیاں ٹوٹ کر ھنس گئیں آپ بے ہوش ہو گئے میں نے قریش مکہ صلح حدیبیہ پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔آنحضرت علی اپنے دانتوں سے پکڑ کر آپ کے رخساروں سے ٹوٹی ہوئی کڑیاں نکالیں مجھے نے مکہ پر لشکر کشی کی اور رمضان سنہ 8 ھ (بمطابق جنوری 630ء) میں مکہ فتح صلى الله اتناز ور لگانا پڑا کہ میرے دو دانت ٹوٹ گئے۔آنحضرت ﷺ نے جن چودہ ہو گیا۔اسلامی لشکر دس ہزار پاکبازوں پر مشتمل تھا۔مکہ کی وادی میں داخل صحابہ سے خوشنودی کا اظہار فرمایا ان میں میں بھی شامل تھا اور یہ محض اللہ کے ہونے کے لئے چار درے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اسلامی فوج کو چار دستوں میں تقسیم فرما دیا اور ہر دستے پر ایک امیر مقررفرما دیا اور مکہ میں الگ فضل سے ہوا۔مجھے غزوہ خندق میں بھی شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا اس موقع پر دشمن الگ درے سے ہر دستے کو داخل کرنے کی ہدایت فرمائی۔عرب کے سارے قبائل کو اکٹھا کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے مدینہ کی حفاظت سب سے بڑے دستے پر مجھے ( ابوعبیدہ کو ) امیر مقرر کیا گیا اور میں شمالی دوسرا دستہ حضرت علی کا تھا وہ جنوبی درہ سے مکہ میں داخل ہوئے۔کے لئے ایک خندق کھودی گئی۔تئیس دن محاصرہ جاری رہا۔بالآ خر رسول اللہ درہ سے گذر کر مکہ میں داخل ہوا۔کی دعا سے یہ مصیبت ٹلی۔افسوس کہ میرا انصاری بھائی سعد بن معاد اس جنگ میں سخت زخمی ہو گیا اور اس کے جلد بعد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گیا۔تیسرا دستہ زبیر کا تھا وہ جنوب مغربی درہ سے مکہ میں داخل ہوئے۔چوتھا چھ سال تک جنگ و جدال کا سلسلہ جاری رہا بالآخر قریش اور دستہ خالد بن ولید کا تھا وہ عکرمہ اور صفوان کا مقابلہ کرتے ہوئے شمال مشرقی آنحضرت ﷺ کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ ہوا اور دس سال درے سے مکہ میں داخل ہوئے۔کے لئے جنگ بند کر دی گئی۔آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ میں بھی مجھے شامل قریش نے مقابلہ کئے بغیر ہتھیار ڈال دیئے۔ہمیں آنحضرت عل الله فرمایا اور صلح نامہ پر میرے بھی بطور گواہ دستخط کر وائے اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے ساتھ مل کر طواف کعبہ کی توفیق ملی۔اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے عام کو ایک عظیم الشان فتح قرار دیا۔قریش کے ساتھ صلح کا معاہدہ ہوا تو یہود کی معافی کا اعلان کر دیا۔اس موقع پر سارے قریش مکہ کو اسلام میں فوج در فوج طرف سے خطرہ بڑھا آنحضرت ﷺ نے خیبر کے قلعہ پر چڑھائی کی۔غزوہ داخل ہونے کی توفیق ملی۔آنحضرت ﷺ نے ان سب سے باری باری خیبر میں بھی مجھے شمولیت کی توفیق ملی۔خیبر کا قلعہ آنحضرت ﷺ کی دعا سے بیعت لی۔یہ عجیب نظارہ تھا وہ جو آنحضرت علی اور صحابہ کے خون کے