سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 12 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 12

19 18 بن حارثہؓ کے زیر کمان اس لشکر کو روانہ کیا۔یہ لشکر تین ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا۔نے معاہدہ کر کے آنحضرت ﷺ کی اطاعت قبول کر لی۔دومۃ الجندل وسطی اسلامی لشکر کی دس پندرہ ہزار رومیوں کے ساتھ جمادی الاول سنہ 8 ھ (مطابق عرب عراق اور شام کے سنگم پر واقع تھا اور وہاں ایک عیسائی شہزادہ اکیدر اکتوبر 634 ء ) موتہ کے مقام پر جنگ ہوئی جس میں اسلامی فوج کے سالار حکومت کرتا تھا۔حضرت زید بن حارثہ شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے بعد آنحضرت علی شام پر لشکر کشی کی ہدایت کے مطابق لشکر کی کمان حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھالی وہ بھی پر شہید ہو گئے۔اس کے بعد آنحضرت کے ہی مقرر کردہ سالار حضرت عبداللہ آنحضرت ﷺ نے وصال سے کچھ دن پہلے موتہ کے شہیدوں کا بدلہ بن رواحہ تھے وہ بھی شہید ہو گئے۔آنحضرت ﷺ کے تینوں سالاروں کی یکے لینے کے لئے حضرت زید بن حارثہ کے نو عمر بیٹے حضرت اسامہ بن زید کے بعد دیگرے شہادت کے بعد اسلامی لشکر کی کمان حضرت خالد بن ولید نے زیر کمان ایک لشکر تیار کیا اس لشکر میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور کئی اور جلیل الله سنبھالی اور فوج کو مزید نقصان سے بچا کر واپس لے آئے۔آنحضرت میں نے القدر صحابہ بھی شامل تھے۔لشکر ابھی مدینہ سے روانہ نہیں ہوا تھا کہ آنحضر نے انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔ﷺ کا وصال ہو گیا اور حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ ہوئے۔ادھر عرب کے کئی جنگ موتہ کے بعد رومی سلطنت نے عرب پر حملہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔قبائل نے حضرت ابوبکر کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور شام کا سرحدی چنانچہ ہجرت کے نویں سال مدینہ سے اطلاع ملی کہ قیصر روم شام کی سرحد پر علاقہ بھی جنہوں نے اطاعت قبول کی تھی باغی ہو گئے۔مدینہ پر حملہ کرنے کے لے بڑی بھاری تعداد میں فوج اکٹھی کر رہا ہے۔حضرت ابوبکر نے ایک طرف اُسامہ بن زید کالشکر موتہ کے شہیدوں کا آنحضرت ﷺ نے تمیں ہزار کا لشکر تیار کیا اور خودشام کی سرحد پر رجب سنہ بدلہ لینے کے لئے روانہ کیا۔دوسری طرف باغیوں کی سرکوبی کے لئے پہلے خود 9ھ (مطابق نومبر 635 ء ) میں تبوک کے مقام پر پہنچے۔تبوک مدینہ اور دمشق میدان جنگ میں اترے اور پھر گیارہ لشکر بنا کر اندرون عرب مختلف محاذوں پر کے درمیان واقع ہے۔آنحضرت کی زندگی میں اتنا بڑا لشکر اس سے پہلے بھیجوائے ان میں عمرو بن العاص کو تبوک اور دومۃ الجندل کے علاقہ میں قضاعہ کبھی تیار نہیں ہوا تھا۔گو عارضی طور پر رومی حملے کا خطرہ ٹل گیا تا ہم اور ودیعہ کے باغی قبائل کی طرف بھیجوایا گیا اور خالد بن سعید کو شامی سرحد پر آنحضرت عه بعض سرحدی سرداروں کے ساتھ جنگی معاہدے کر کے باغی قبائل کی طرف بھجوایا گیا۔عرب کے اندرونی حصے میں باغی قبائل نے ان مدینہ واپس تشریف لے آئے ان میں دومۃ الجندل کا علاقہ بھی شامل تھا جس مہمات کے نتیجے میں اطاعت قبول کر لی لیکن عراق اور شام کی طرف سے