حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 7
11 10 نورالدین صاحب امامت کراتے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم الحمد للہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم ہمیشہ بالجبر (یعنی اونچی آواز سے) پڑھتے تھے اور رکوع کے بعد کھڑے ہو کر کثرت سے قرآن کریم کی دعائیں بآواز بلند پڑھتے تھے۔(رجسٹر روایت نمبر 5 روایات حضرت مولوی محمد رحیم الدین احمدی، حبیب والہ، بجنور، صفحہ 164) کتب کے پروف پڑھنے کی سعادت اس بارہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب دہلوی بیان فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتابوں کی کاپی اور پروف خود دیکھا کرتے تھے اور جب کوئی عربی کتابیں لکھتے تو وہ خود بھی دیکھتے تھے اور بعض علماء کو بھی دکھانے کا حکم دیا تھا۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم تو عربی اور فارسی کتب کے تمام پروف بطور مصیح کے بالاستیعاب دیکھتے تھے۔امام وقت کی قربت (سیرت المہدی حصہ سوم، روایت نمبر 605) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب دہلوی بیان فرماتے ہیں: ایک موقع پر سیالکوٹ میں کسی عزیز کی شادی پر جانے کے لئے بہت اصرار کیا گیا مگر آپ نے صاف انکار کردیا کہ میں یہ عارضی جدائی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اس کے بارہ مؤسس اخبار البدر حضرت منشی محمد افضل صاحب مرحوم فرماتے ہیں: ” ہمارے مخدوم مولوی عبد الکریم صاحب جو کہ عرصہ قریباً پانچ سال سے حضرت اقدس کے مبارک قدموں میں جاگزیں ہیں۔ان کو ایک شادی کی تقریب میں شمولیت کے واسطے (ساتھ لے جانے کے واسطے ) ایک دو احباب سیالکوٹ سے تشریف لائے تھے مگر خدا تعالیٰ نے جو عشق اور محبت مولوی صاحب کو حضرت اقدس کے ساتھ عطا کیا ہے وہ ایک پل کے واسطے بھی ان مبارک قدموں سے جدائی کی اجازت نہیں دیتا۔بلکہ اس کا اثر یہ ہے کہ جب کوئی احمدی بھائی قادیان آکر پھر رخصت طلب کرتے ہیں تو مولوی صاحب کی یہی نصیحت ہوتی ہے کہ اس مقام کو اتنی جلدی نہ چھوڑو۔دیکھو تمہارے اوقات دنیوی کا روبار میں کس قدر گذرتے ہیں۔اگر اس کا ایک عشر عشیر بھی تم دین کے واسطے یہاں گذار و تو تم کو پتہ لگے اور آنکھ کھلے کہ یہاں کیا ہے جو ایک پل کے واسطے علیحدہ نہیں ہونے دیتا۔غرضیکہ مولوی صاحب موصوف نے سیالکوٹ جانے سے انکار کیا اور وہی بات اس وقت حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوئی۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اس مقام کو خدا تعالیٰ نے امن والا بنایا ہے اور متواتر کشوف والہامات سے ظاہر ہوا ہے کہ جو اس کے اندر داخل ہوتا ہے وہ امن میں ہوتا ہے تو اب ان ایام میں جبکہ ہر طرف ہلاکت کی ہوا چل رہی ہے اور گو کہ طاعون کا زوراب کم ہے مگر سیالکوٹ ابھی تک مطلق اس سے خالی نہیں رہا اس لئے اس جگہ کو چھوڑ کر وہاں جانا خلاف مصلحت ہے۔آخر کار تجویز قرار پائی کہ جن صاحب کی شادی ہے وہ اور لڑکی کی طرف سے اس کا ولی۔۔۔۔یہاں قادیان آجادیں اور یہاں نکاح ہو۔حضرت صاحب کی