حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ

by Other Authors

Page 3 of 16

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 3

3 2 بخش۔آپ کے دادا تو دیار کی عمارتی لکڑی کا کاروبار کرتے تھے والد ماجد سوتی اوریشمی کپڑا اور ن محلہ میانہ ہو روسیا لکوٹ میں وفات پائی۔کھڈ ربنواتے تھے اور دکان میں فروخت کرتے تھے ، ساتھ سوت بھی فروخت کرتے تھے۔والد صاحب اللہ کی راہ میں بہت خرچ کرتے۔اکثر غرباء کی خفیہ مالی امداد کرتے ابتدائی تعلیم رہتے تھے۔آپ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے چھ ماہ بعد 1906ء میں سیالکوٹ ہی میں فوت ہوئے۔آپ کے حوصلہ اور صبر کا اس امر سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ (( رفقاء ) احمد جلد اول نمبر 2 ص 1) 1860ء کے عشرہ میں سیالکوٹ میں دو ہی سکول تھے۔ایک سکاچ مشن سکول اور دوسرا امریکن مشن سکول۔حضرت مولوی صاحب امریکن مشن سکول میں تعلیم کے لئے حضرت مولوی صاحب کی بیماری کے ایام میں یہاں آئے اور جب مولوی صاحب فوت داخل کئے گئے۔مڈل میں فیل ہو گئے اس وجہ سے کہ حساب نہیں آتا تھا۔اس پر سکول چھوڑ ہو گئے تو بیت مبارک قادیان کے اوپر کے حصہ میں بیٹھے تھے اور کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ ان کو کوئی خاص صدمہ ہے۔وفات کے وقت آپ کی عمر 80 سال سے زیادہ ہوگی۔دیا اور پرائیویٹ طور پر عربی اور فارسی پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ سیالکوٹ میں کوئی مخص ان مضامین کی مزید تعلیم دینے والا نہ رہا۔اس لئے گوجرانوالہ چلے گئے اور وہاں مولوی محبوب عالم صاحب سے جو مشہور عالم اور طبیب تھے تعلیم حاصل کی۔وہاں سے آ کر کچھ (ماخوذ از ( رفقاء) احمد جلد اول نمبر 2 صفحہ 2 تا 8 ) عرصہ بعد آپ امریکن مشن سکول میں فارسی پڑھانے کے لئے ملازم ہو گئے۔ملازمت کے دوران آپ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اپنے مذہب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔اس پر آپ نے دین حق آپ کی والدہ صاحبہ آپ کی والدہ کا نام حضرت حشمت بی بی تھا جو ہدایت اللہ صاحب بٹ کی بیٹی کی طرف توجہ کی۔اور سکول میں رہ کر سکول کے پادریوں کے ساتھ بحث و مباحثہ شروع تھیں۔چونکہ حضرت مولوی صاحب قادیان میں مستقل رہائش رکھتے تھے اس لئے آپ کی کیا۔یہ اندار ا1880ء کی بات ہے۔1885ء تک آپ سکول میں ملازمت کرتے رہے اور اس دوران عیسائیوں سے مباحثہ بھی کرتے تھے اور دین حق کی خوبیوں پر لیکچر بھی (ماخوذ از رساله ( رفقاء) احمد جلد اول نمبر 2 صفحہ 6-8) والدہ صاحبہ سیالکوٹ سے قادیان بھی تشریف لاتیں۔حضرت مولوی صاحب بھی قادیان سے بوڑھے والدین کی خدمت میں سیالکوٹ حاضر ہوتے رہتے تھے۔1898ء سے دیتے رہے۔1905 ء تک حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کئی دفعہ والدین کی خدمت کیلئے قادیان سے سیالکوٹ گئے۔آپ کی والدہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیقہ تھیں اور نیک خاتون عائلی زندگی تھیں۔دنیا سے بے تعلقی ہی تھی ، طبیعت میں تکلف نام کو نہ تھا، جو کچھ کھانے کیلئے ملتا کھا حضرت مولوی صاحب کی پہلی شادی 1884 ء یا 1885ء میں سیالکوٹ میں حضرت لیتیں اور جو سینے کیلئے ماتا پہن لیتیں۔آپ کی وفات 1913 ء یا 1914ء میں ہوئی۔آپ زینب بی بی سے ہوئی جو قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں مولویانی صاحبہ