حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 8
13 12 دعا بھی ہوگی اور خود مولوی عبد الکریم صاحب کیا بلکہ حضرت اقدس علیہ السلام بھی اس تقریب نکاح میں شامل ہو جائیں گے۔(اخبار البدر قادیان 26 جون 1903 ص 178-179 ) غرض یہ آپ کی آقا سے عشق و محبت کی انتہا تھی جس کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔آپ کی قادیان کی خدمات کے بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے تحریر فرماتے ہیں: بیان کیا مجھ سے مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ہی ( نداء ) کہا کرتے تھے اور خود ہی نماز میں امام ہوا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعد میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب امام نماز مقرر ہوئے اور سنا گیا ہے کہ حضرت صاحب نے دراصل عبدالکریم صاحب حضرت صاحب کیلئے ( بیت ) مبارک میں جمعہ پڑھاتے تھے اور بڑی (بیت) میں حضرت مولوی نورالدین صاحب جمعہ پڑھاتے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد ( بیت ) مبارک میں مولوی محمد احسن صاحب اور ان کی غیر حاضری میں مولوی سید سرور شاہ صاحب امام جمعہ ہوتے تھے اور بڑی (بیت الذکر ) میں حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔حضرت صاحب کی وفات تک یہی طریق رہا۔عید کی نماز میں عموماً مولوی عبد الکریم صاحب اور ان کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔جنازہ کی نماز حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب آپ شریک نماز ہوں خود پڑھاتے تھے۔“ مولوی نورالدین صاحب کو امام مقرر کیا تھا لیکن مولوی صاحب نے مولوی جلسہ مذاہب عالم عبدالکریم صاحب کو کر وا دیا۔چنانچہ اپنی وفات تک جو 1905ء میں ہوئی، مولوی عبد الکریم صاحب کے ساتھ دائیں طرف کھڑے ہوا کرتے تھے اور (سیرت المہدی، حصہ اول روایت نمبر 151) دسمبر 1896ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحریر شدہ مضمون جس کے بارہ میں باقی مقتدی پیچھے ہوتے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی غیر حاضری میں اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں پہلے سے ہی خبر دی تھی مضمون بالا رہا کہ دین حق کی نیز ان کی وفات کے بعد مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔جمعہ کے نمائندگی میں جو مضمون آپ کا ہو گا وہ سب سے اعلیٰ رہے گا جلسہ مذاہب عالم میں پڑھنے کی متعلق طریق تھا کہ اوائل میں اور بعض اوقات آخری ایام میں بھی حضرت سعادت حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے حصہ میں آئی۔یہ تاریخی مضمون جو صاحب کی طبیعت اچھی ہوتی تھی تو جمعہ بڑی (بیت الذکر ) میں ہوتا تھا جس بعد میں اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے شائع ہوا اور آج قریباً ہر احمدی گھرانہ میں کو آجکل ( بیت ) اقصیٰ کہتے ہیں اور مولوی عبدالکریم صاحب امام ہوتے کتابی صورت میں موجود ہے۔باوجود یکہ آپ بیمار تھے، تا ہم آپ نے اس لیکچر کو خوش تھے۔بعد میں جب حضرت صاحب کی صحت عموماً ناساز رہتی تھی۔مولوی الحانی سے پڑھنے کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔