حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 2
1 پیش لفظ (مومنوں) کا لیڈر عبد ال<mark>کریم</mark>" کا لقب پانے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رفیق سیالکوٹ کی زرخیز مٹی سے نمو پانے والے ایک وجود تھے۔آپ دینی و دنیاوی دونوں لحاظ سے نہایت قابل اور عالم شخص تھے۔زبان دانی میں اس قدر ماہر کہ امیر حبیب اللہ خان والی افغانستان بھی اپنے ملک میں قائم دارالترجمہ کے لئے آپ کی تشریف آوری کا خواستگار ہوا۔مگر مہدی زماں کی محبت اور عشق میں سرشار اس وجود نے دنیا وی دولت کو روحانی دولت پر فوقیت دے کر ہم سب کے لئے ایک قابلِ تقلید نمونہ قائم کر دیا۔حضرت مولوی عبدال<mark>کریم</mark> صاحب سیالکوٹی خاندانی حالات حضرت خواجہ مولوی عبدال<mark>کریم</mark> صاحب سیالکوٹی 1858ء میں بمقام شہر سیالکوٹ پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام محمد سلطان ، دادا کا نام عبدالرحیم اور والدہ کا نام حشمت بی بی تھا۔آپکا نام <mark>کریم</mark> <mark>بخش</mark> رکھا گیا جسے <mark>بعد</mark> میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے عبدال<mark>کریم</mark> سے بدل دیا۔آپ کے نام بدلنے کے بارہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب دہلوی بیان کرتے ہیں: مولوی عبدال<mark>کریم</mark> صاحب سیالکوٹی مرحوم کا نام اصل میں <mark>کریم</mark> <mark>بخش</mark> تھا۔حضرت صاحب نے ان کا نام بدل کر عبدال<mark>کریم</mark> رکھ دیا۔میں نے اس تبدیلی کے بہت دیر <mark>بعد</mark> بھی مولوی صاحب مرحوم کے والد صاحب کو سنا کہ وہ انہیں <mark>کریم</mark> <mark>بخش</mark> ہی کہہ کر پکارتے تھے۔آپ کے والد صاحب (سیرت المہدی حصہ سوم، روایت نمبر 604ص70) آپ کے دادا مکرم عبدالرحیم صاحب کے تین لڑکے تھے : محمد سلطان محمد جان اور محمد