حیات طیبہ — Page 66
66 اسی طرح ایک مرتبہ آپ کو یہ الہام ہوا کہ : ” میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔“ اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔ہر چہ باید نوعرو سے راہماں ساماں کنم و آنچه مطلوب شما باشد عطائے آں کنم اے یعنی جو کچھ دلہن کے لئے فراہم ہونا چاہئے وہ میں فراہم کرونگا اور تمہاری ہر ایک ضرورت کو پورا کروں نگا۔حضور فرماتے ہیں۔اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی۔۔۔۔اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا۔کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہوگئی۔۔۔سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کر یگا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لا دے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان ٹوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔“ سے مندرجہ بالا واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ جو دہلی کے ایک مشہور خاندان سادات کے روشن گوہر تھے۔آپ کا تعلق آبائی سلسلہ میں تو قریب کے ایک بزرگ امیر الامراء صمصام الدولہ نواب خاں دوران خاں بہادر میر بخشی منصور جنگ کمانڈر انچیف افواج مغلیہ کے ساتھ تھا اور نتھیالی سلسلہ میں آپ کا تعلق حضرت خواجہ میر در درحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ تھا۔جن کا خاندان، تقویٰ اور پر ہیز گاری میں ہندوستان بھر میں مشہور ہے اور آپ بسلسلہ ملازمت پنجاب میں مقیم تھے۔ضلع گورداسپور میں قادیان کے قریب بلکہ خاص ا شخنه حق صفحه ۵۸،۵۷ ه تریاق القلوب صفحه ۶۵،۶۴