حیات طیبہ

by Other Authors

Page 38 of 492

حیات طیبہ — Page 38

38 آٹھ یا نو ماہ کے روزے اور انوار سماوی کا نزول ۱۸۷۵ء کے آخر یا تکاء کے شروع میں ایک بزرگ معمر پاک صورت آپ کو خواب میں ملا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندانِ نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں سنتِ اہلِ بیت رسالت کو بجالاؤں“ چنانچہ آپ نے آٹھ یا نو ماہ تک خفیہ طور پر روزے رکھنے کا مجاہدہ کیا۔جس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : سوئیں نے کچھ مدت تک التزامِ صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے۔پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگوا تا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی۔دے دیتا۔اور اس طرح تمام دن روزہ میں گذارتا اور بجز خدا تعالٰی کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھالیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں۔بہتر ہے کہ کسی قدرکھانے کو کم کروں۔سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا۔یہاں تک کہ میں تمام دن رات میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا۔یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔غالباً آٹھ یا نو ماہ تک میں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گزرے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مع حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستاں نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔وہ نورانی ستون جو سید ھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سُرخ تھے۔ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا