حیات طیبہ

by Other Authors

Page 36 of 492

حیات طیبہ — Page 36

36 رویا و کشوف کی کثرت اور قادیان کے ہندوؤں کے لئے نشانات اب چونکہ حضور کی بعثت کا زمانہ قریب آرہا تھا۔جبکہ خالقِ ارض وسماء آپ کو بھولی بھٹکی مخلوق کی رہنمائی کے لئے ماموریت کے مقام پر سرفراز کرنا چاہتا تھا اس لئے آپ کو رویا اور کشوف بکثرت ہونے لگے اور کبھی کبھی الہاماتِ الہیہ سے بھی آپ نوازے جانے لگے۔قادیان کے دو ہندو لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل کثرت سے آپ کے پاس آیا کرتے تھے۔کئی نشانات ان کے متعلق بھی آپ پر ظاہر کئے گئے۔چنانچہ ۱۸۷۰ء میں قادیان کے ایک آریہ لالہ شرمیت کے ایک عزیز لالہ بشمبر داس اور ایک اور ہندو خوشحال چند نامی ایک مقدمہ میں قید ہو گئے۔عدالت عالیہ میں ان دونوں کی اپیل دائر تھی۔لالہ شرمپت نے آپ سے اس مقدمہ کا انجام معلوم کرنے کی درخواست کی۔کیونکہ آپ کے لئے اس ہندو پر اسلام کی صداقت اور برتری ثابت کرنے کا یہ بہترین موقعہ تھا اس لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔رات کے وقت آپ کو بذریعہ کشف بتلا یا گیا کہ اس مقدمہ کی مسل چیفکورٹ سے سیشن کورٹ میں واپس آئے گی۔جہاں اس کے بھائی کی تو نصف قید معاف ہو جائے گی لیکن اس کا دوسرا ساتھی پوری سزا بھگتے گا۔جب یہ البہی خبر قادیان کے ہندوؤں کو سنائی گئی تو اتفاق کی بات ہے کہ کسی غلط نہی کی بنا پر چند روز بعد یہ افواہ مشہور ہوگئی کہ اپیل منظور ہو گیا ہے اور لالہ بشمبر داس بری ہو گئے ہیں۔حضرت کو یہ خبرشن کر سخت صدمہ ہوا۔اور قادیان کے ہندوؤں نے گھی کے چراغ جلائے اور مشہور کیا کہ آپ کی پیشگوئی غلط نکلی بلکہ بازار میں یہ خبر بھی پھیل گئی کہ ملزمان رہا ہو کر گاؤں میں واپس آگئے ہیں۔جب آپ کو یہ خبر پہنچی تو عشاء کی نماز کی تیاری ہورہی تھی۔آپ فرماتے ہیں کہ اس غم سے میرے پر وہ حالت گذری جس کو خدا جانتا ہے۔اس غم سے میں محسوس نہیں کر سکتا تھا کہ میں زندہ ہوں یا مرگیا ہوں۔تب اس حالت میں نماز شروع کی گئی۔جب میں سجدہ میں گیا تب مجھے یہ الہام ہوا کہ: لَا تَحْزَنْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى یعنی غم نہ کر تھی کو غلبہ ہو گا۔تب میں نے شرمیت کو اس سے اطلاع دی اور حقیقت یہ کھلی کہ اپیل صرف داخل کیا گیا ہے یہ نہیں کہ بشمبر داس بری کیا گیا ہے۔چنانچہ بعد میں جیسا کہ مصفی غیب میں بتلایا گیا تھا اسی طرح ظہور میں آیا اور ہند و حیران و پریشان رہ گئے۔موقعہ کی مناسبت کی وجہ سے میں لالہ ملا وامل کے متعلق بھی ایک نشان کا ذکر کئے دیتا ہوں۔ورنہ تاریخ کے له قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ ۲۹،۲۸