حیات طیبہ — Page 35
35 لئے مولوی محمد حسین صاحب کے مکان پر لے گیا۔وہاں ان کے والد صاحب بھی موجود تھے اور سامعین کا ایک ہجوم مباحثہ سننے کے لئے بیتاب تھا۔آپ مولوی صاحب موصوف کے سامنے بیٹھ گئے اور مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کا دعوی کیا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا۔میرا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے مقدم ہے۔اس کے بعد اقوالِ رسول کا درجہ ہے اور میرے نزدیک کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مقابل کسی انسان کی بات قابل حجت نہیں ہے۔حضور نے یہ گن کر بے ساختہ فرمایا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول اور نا قابل اعتراض ہے لہذا میں آپ کے ساتھ بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا۔حضور کا یہ فرمانا تھا کہ لوگوں نے دیوانہ وار یہ شور مچادیا کہ ہار گئے ہار گئے۔جو شخص آپ کو ساتھ لے گیا تھا وہ بھی سخت طیش سے بھر گیا اور کہنے لگا کہ آپ نے ہمیں ذلیل ورسوا کیا۔مگر آپ تھے کہ کوہ وقار بنے ہوئے تھے اور آپ کو لوگوں کے شور وشر کی مطلقاً پروانہ تھی۔آپ نے چونکہ یہ ترک بحث خالصہ اللہ اختیار کیا تھا۔اس لئے رات کو اللہ تعالیٰ نے اس پر خاص اظہار خوشنودی کرتے ہوئے الہاما فرمایا کہ: ” خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس کے بعد آپ کو عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے جو چھ سات سے کم نہ تھے۔اور گھوڑوں پر سوار تھے۔حضور علیہ السلام اپنی ایک عربی کتاب میں اس کشف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” میں نے ایک مبشر خواب میں مخلص مومنوں اور عادل بادشاہوں کی ایک جماعت دیکھی۔جن میں سے بعض اسی ملک (ہند) کے تھے اور بعض عرب کے، بعض فارس کے اور بعض شام کے، بعض روم کے اور بعض دوسرے بلاد کے تھے۔جن کو میں نہیں جانتا۔اس کے بعد مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کرینگے اور تجھ پر ایمان لائیں گے اور تجھ پر درود بھیجیں گے اور تیرے لئے دعائیں کریں گے اور میں تجھے بہت برکتیں دونگا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔۲ میں اس الہام پر اپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔صرف اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ اس زمانے کا الہام ہے جبکہ آپ بالکل ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ آپ کا مستقبل کیسا شاندار ہوگا۔براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۲۰ و ۵۲۱ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳ و دیگر کتب کثیرہ۔ترجمه از عربی عبارت لجته النور صفحه ۳ و ۴