حیات طیبہ — Page 321
321 انصاف کو اختیار کرتے ہیں اور خدا سے ڈر کر اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور نیکی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور بنی نوع کے وہ سچے خیر خواہ ہیں اور ان میں درندگی اور ظلم اور بدی کا جوش نہیں بلکہ عام طور پر ہر ایک کے ساتھ وہ نیکی کرنے کے لئے تیار ہیں۔سو انجام یہ ہے کہ اُن کے حق میں فیصلہ ہوگا۔تب وہ لوگ جو پوچھا کرتے ہیں جو ان دونوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے۔اُن کے لئے نہ ایک نشان بلکہ کئی نشان ظاہر ہونگے۔‘1 اس سے قبل آپ کو اس مقدمہ کی نسبت یہ بھی الہام ہوا تھا کہ يَوْمُ الْإِثْنَيْنِ وَفَتَحُ الْحُنَيْنِ یعنی اس مقدمہ میں حنین کی فتح کی مانند آپ کو فتح حاصل ہوگی۔یعنی جس طرح حسنین کے موقعہ پر صحابہ کو پہلے بظاہر ایک قسم کا دھکا لگا تھا۔اسی طرح اس مقدمہ میں بھی ہوگا مگر پھر جلد عظیم الشان فتح ہوگی۔اسی طرح ایک الہام جو آپ کو اس مقدمہ کے دوران میں بار بار ہوا۔وہ یہ تھا کہ سَأُكْرِمُكَ إِكْرَامًا عَجَباً یعنی میں نہایت شاندار طور پر تیرا اکرام کروں گا۔ایسا ہی ایک الہام یہ بھی آپ کو ہوا کہ سَأُكْرِمُكَ إِكْرَامًا حَسَنًات یعنی میں تیرا بہت اچھا اکرام کروں گا۔یہ تمام الہامات اس مقدمہ کے اچھے انجام پر دلالت کر رہے تھے۔درخواست انتقال مقدمه نامنظور پیچھے بیان ہو چکا ہے کہ ۱۴ جنوری ۱۹۰۴ ء کو خواجہ کمال الدین صاحب نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے پاس لالہ چند ولعل صاحب کی عدالت سے مقدمہ منتقل کر دیئے جانے کیلئے درخواست دی تھی۔یہ درخواست ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ۱۲ / فروری ۱۹۰۴ء کو مسترد کر دی تھی۔اس کے بعد خواجہ صاحب نے انتقال مقدمہ کے لئے چیفکورٹ میں درخواست دی جس کے لئے ۲۲ فروری ۱۹۰۴ء کی تاریخ مقرر ہوئی لیکن لالہ چند ولعل صاحب کی عدالت میں ۱۶ / فروری ۱۹۰۴ ء تاریخ مقرر تھی اور اس روز مجسٹریٹ کی نیت ٹھیک نہیں تھی اور وہ اس امر پر ہوئے تھے کہ آپ کی شان کے خلاف برتاؤ کریں۔مگر خدا تعالیٰ نے اُن کی کوئی پیش نہ جانے دی حضرت مولا ناسید سر ورشاہ صاحب بیان فرماتے تھے کہ : بر تلے کے تذکره صفحه ۸۶ ۲ تذکره صفحه ۴۷۶ ۳ تذکرہ صفحہ ۴۷۲، ۴۷۴ اور ۴۸۹ وغیرہ ه تذکره صفحه ۴۸۹