حیات طیبہ — Page 257
257 يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ، یعنی اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سے صرف تو ہی معصوم ہے۔حضرت مفتی صاحب کا یہ استدلال من کر پادری صاحب بہت گھبرائے اور جلسہ گاہ چھوڑ کر چل دیئے۔جب حضرت اقدس کو بشپ صاحب کے اس لیکچر کاعلم ہوا تو حضور نے جوابا ایک اشتہار شائع فرمایا۔اے جس میں بشپ صاحب کو معصوم نبی کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے بلایا اور لکھا کہ کسی نبی کا معصوم ثابت کرنا کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔کیونکہ نیکی کی تعریف میں کئی مذاہب کا آپس میں شدید اختلاف ہے۔مثلاً و بعض فرقے شراب پینا سخت گناہ سمجھتے ہیں اور بعض کے عقیدہ کے موافق جب تک روٹی توڑ کر شراب میں نہ ڈالی جائے اور ایک نومرید مع بزرگانِ دین کے اس روٹی کو نہ کھاوے اور اس شراب کو نہ پیوے تب تک دیندار ہونے کی پوری سند حاصل نہیں ہوسکتی۔۔۔ہاں یہ طریقہ نہایت عمدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور نقدی اور برکاتی اور تا خیراتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم موازنہ اور مقابلہ کیا جائے یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں۔۔۔۔۔۔۔اور اگر فرض بھی کر لیں کہ تمام قومیں معصومیت کی وجوہ ایک ہی طور سے بیان کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔تو گو ایسا فرض کرنا غیر ممکن ہے تا ہم محض اس امر کی تحقیق سے کہ ایک شخص شراب نہیں پیتا۔رہزنی نہیں کرتا۔ڈاکہ نہیں مارتا۔خون نہیں کرتا۔جھوٹی گواہی نہیں دیتا۔ایسا شخص صرف اس قسم کی معصومیت کی وجہ سے انسان کامل ہونے کا ہر گز مستحق نہیں ہوسکتا اور نہ کسی حقیقی اور اعلی نیکی کا مالک ٹھہر سکتا ہے۔اس قسم کی نبیوں کی تعریف کرنا اور بار بار معصومیت معصومیت پیش کرنا اور دکھلا نا کہ انہوں نے ارتکاب جرائم نہیں کیا۔سخت مکروہ اور ترک ادب ہے۔ہاں ہزاروں صفات فاضلہ کے ضمن میں اگر یہ بھی بیان ہو تو کچھ مضائقہ نہیں انسان کامل کی شناخت کے لئے کسب خیر کا پہلو دیکھنا چاہئے۔یعنی یہ کہ کیا کیا حقیقی نیکیاں اس سے ظہور میں آئیں اور کیا کیا حقیقی کمالات اس کے دل اور دماغ اور کانشنس میں موجود ہیں اور کیا کیا صفات فاضلہ اس کے اندر موجود ہیں۔سو یہی وہ امر ہے جس کو پیش نظر رکھ کر حضرت مسیح کے ذاتی کمالات اور انواع خیرات اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور خیرات کو ہر ایک پہلو سے جانچنا چاہئے۔۔۔۔۔الخ حضرت اقدس کا یہ اشتہار لاہور اور دیگر شہروں میں تقسیم کر دیا گیا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ کروا کر لے دیکھو اشتہار بشپ صاحب لاہور سے ایک سچے فیصلہ کی درخواست محرره ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء