حیات طیبہ

by Other Authors

Page 176 of 492

حیات طیبہ — Page 176

176 صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ: ہوئے۔وو وہ بادشاہ آیا“ دوسرے نے کہا کہ ابھی تو اس نے قاضی بنا ہے۔فرمایا۔قاضی حکم کو بھی کہتے ہیں۔قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کور دکرے۔‘1 ایک مرتبہ جب حضرت صاحبزادہ صاحب بیمار ہوئے تو حضرت اقدس کو آپ کی نسبت حسب ذیل الہامات - عمره الله على خلاف التَّوَقُعِ أَمَّرَهُ اللهُ عَلَى خِلَافِ التَّوَقُعِ ٢- اء نُتِ لا تَعْرِفِينَ الْقَدِيرَ مُرَادُكَ حَاصل ه الله خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ترجمہ ان الہامات کا یہ ہے کہ ا۔خدا تعالیٰ اس کو اُمید سے بڑھ کر عمر دیگا۔۲۔خدا تعالیٰ اس کو اُمید سے بڑھ کر امیر کریگا۔۳۔کیا تو قادر کو نہیں پہچانتی (یہ اس کی والدہ کی نسبت الہام ہے ) ۴۔تیری مراد حاصل ہو جائے گی۔۵۔خدا سب سے بہتر حفاظت کرنے والا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔قبر مسیح کی تحقیق کے لئے سرینگر میں وفد بھیجنے کی تجویز اسی سال آپ نے سرینگر محلہ خانیار میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی قبر ثابت کر کے عیسائی اور مسلم دنیا پر ایک تازہ تاریخی انکشاف کیا۔چنانچہ آپ نے ” نور القرآن، حصہ دوم میں اس تحقیقات پر سیر کن بحث کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیری سب بنی اسرائیل ہیں جو بخت نصر کے زمانہ میں افغانستان اور کشمیر کی طرف ہجرت کر آئے تھے۔چنانچہ مزید تحقیقات کے لئے آپ نے اپنی جماعت کے احباب کا ایک وفد بھی سرینگر بھیجا۔جس نے مکمل تحقیقات کر کے آپ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔جس سے فائدہ اُٹھا کر آپ نے ایک تاریخی کتاب "مسیح ہندوستان میں تالیف فرمائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا ایک اہم مقصد کسر صلیب“ تھا۔سواس تحقیقات کے ذریعہ آپ نے اس کی ایک محکم بنیاد رکھ دی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ خود عیسائی محققین کی طرف سے اس سلسلہ میں کافی مواد فراہم کیا گیا۔چنانچہ ه بدر ۱۰ر جنوری ۱۹۰۷ء