حیات طیبہ

by Other Authors

Page 141 of 492

حیات طیبہ — Page 141

141 گے۔جس کا نام ” دافع الوساوس ہوگا اور اس میں ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جائیگا جو کم فہم اور کوتاہ نظر مدعیان اسلام مجھ پر کر رہے ہیں۔چنانچہ اس وعدہ کو ایفاء کرتے ہوئے حضور نے ۱۸۹۲ ء کی دوسری ششماہی میں یہ کتاب لکھنی شروع کی اور فروری ۱۸۹۳ء میں اس کو شائع فرمایا۔چونکہ اس کتاب میں اسلام کے کمالات اور قرآن کریم کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اس لیے اس کتاب کے مکمل ہونے پر اس کا نام حضور نے ”آئینہ کمالات اسلام رکھا۔گو اس کا دوسرا نام ” دافع الوساوس“ بھی ہے۔اس کتاب کا اعلان کرنے کے لیے حضور نے ۱۰ راگست ۱۸۹۲ء کو ایک اشتہار شائع کیا۔جس میں اس کتاب کے مضامین کی تفاصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا :- غرض یہ کتاب ان نادر اور نہایت لطیف تحقیقاتوں پر مشتمل ہے جو مسلمانوں کی ذریت کے لئے نہایت مفید اور آج کل کے روحانی ہیضہ سے بچنے کے لئے جو اپنے زہرناک مادہ سے ایک عالم کو ہلاک کرتا جاتا ہے نہایت مجرب اور شفا بخش شربت ہے اور چونکہ یہ کتاب بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کے فسادوں کی اصلاح پر مشتمل ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے میں یقین کرتا ہوں کہ یہ کتاب اسلام اور فرقانِ کریم اور حضرت سیدنا و مولانا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ اور مبارک ذریعہ ہے۔اس کتاب کی تصنیف کے دوران میں دو مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس کتاب کے بابرکت اور نافع الناس ہونے کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ حضور فرماتے ہیں: اس کتاب کی تحریر کے وقت دو مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھ کو ہوئی اور آپ نے اس کتاب کی تالیف پر بہت مسترت ظاہر کی اور ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فرشتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کتاب کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے۔هَذَا كِتَابٌ مُبَارَک فَقُوْمُوا لِلْإِجلال والاكرام - یعنی یہ کتاب مبارک ہے۔اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ه از تبلیغ رسالت جلد دوم صفحه ۱۱۶ سے ضمیمه آئینہ کمالات اسلام ایڈیشن اول صفحه ۴