حیات طیبہ

by Other Authors

Page 139 of 492

حیات طیبہ — Page 139

139 سے ہدایت کی روشنی مانگ کہ وہ ضرور اپنے وعدہ کے موافق اپنی طرف سے روشنی نازل کرے گا جس پر نفسانی اوہام کا کوئی دخان نہیں ہوگا۔سواے حق کے طالبو! ان مولویوں کی باتوں میں نہ پڑو۔اُٹھو اور کچھ مجاہدہ کر کے اس قوی قدیر اور بادی مطلق سے مدد چاہو اور دیکھو کہ اب میں نے یہ روحانی تبلیغ بھی کر دی ہے آئندہ تمہیں اختیار ہے۔والسلام علیٰ من اتبع الہدی۔المبلغ غلام احمد عفی عنہ لے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی ہجرت۔آخر ۱۸۹۳ء حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوئی یوں تو اکثر حضور کی خدمت میں آتے ہی رہتے تھے لیکن ۱۸۹۲ء کے آخر میں اپنے وطن مالوف سیالکوٹ سے ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان آگئے۔حضرت مولوی صاحب بہت عمدہ اوصاف سے متصف تھے۔اُردو۔فارسی اور عربی تین زبانوں کے نہ صرف ماہر تھے بلکہ ان تینوں زبانوں میں اہلِ زبان کی طرح تقریر کرنے کی بھی پوری قدرت رکھتے تھے اور انگریزی زبان میں بھی کافی دسترس رکھتے تھے۔قرآن کریم ایسی خوش الحانی کے ساتھ پڑھتے تھے کہ راہ چلتے غیر مسلم بھی آپ کی پراثر اور دلکش آواز کو سننے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔قرآن کریم کے معارف بیان کرنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔دین کے لئے ان میں بے حد غیرت تھی۔تقریر اور تحریر دونوں میں کمال تھا۔خوش الحان بھی تھے اور جہیر الصوت بھی۔حضرت مسیح موعود کے عاشق زار تھے۔حضرت اقدس کی بعض تصانیف کا فارسی میں ترجمہ کرنے کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہوئی۔چنانچہ آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ کا فاری ترجمہ بھی جس کا نام ” لتبلیغ ہے آپ ہی کا کیا ہوا ہے اور ایام اصلح اردو کا فارسی ترجمہ بھی۔کئی جلسوں میں حضرت اقدس کی تحریریں پڑھ کر سنانے کی توفیق بھی آپ کو حاصل ہوئی۔چنانچہ لاہور کے مشہور مہوتسو میں حضرت اقدس کی تقریریں جو پانچ سوالوں کے جوابات پر مشتمل تھیں اور جو ”اسلامی اُصول کی فلاسفی کے نام سے مشہور ہیں۔آپ ہی نے پڑھ کر سنائی تھیں۔طبیعت پر شان جلالی غالب تھی ساری عمر جماعت کے امام الصلوۃ اور خطیب رہے اور اللہ تعالیٰ نے الہاما آپ کو مسلمانوں کے لیڈر“ کا خطاب عطا فرمایا۔اللهم ارحمه ونور مرقده تصنیفات ۱۸۹۲ء (۱) تصنیف و اشاعت ”نشانِ آسمانی“۔اس کتاب کے مضامین کا ذکر اقتباس بالا سے ظاہر ہے۔ا منقول از نشان آسمانی مطبوعہ ریاض ہند پر یس امرتسر - صفحہ ۳۸ تا ۴۱۔