حیات طیبہ — Page 46
46 سے ملتے جلتے ہی تھے۔یعنی وہ بھی آپ کو زمانہ کے تقاضوں سے غافل خیال کر کے کبھی کبھی فہمائشیں کرتے رہتے تھے۔مگر ان دونوں زمانوں میں نمایاں فرق یہ تھا کہ باپ کی پدری محبت اکثر جوش میں آجایا کرتی تھی اور وہ کبھی کبھی آپ کی نیکی اور تقویٰ کو دیکھ کر دل و جان سے آپ پر فدا ہو جایا کرتے تھے۔مزید برآں والدہ صاحبہ کا سایہ تو اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسانوں میں سے ایک عظیم الشان احسان تھا، لیکن آپ کے بڑے بھائی کے زمانہ میں اس وجہ سے آپ کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا کہ آپ کے بھائی خود تو گورداسپور میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں سپر نٹنڈنٹ تھے اور اکثر وہاں ہی رہا کرتے تھے اور گھر کا تمام انتظام آپ کی بھاوج کے سپر د تھا۔جن کا سلوک آپ سے بہت سخت تھا۔الغرض یہ زمانہ آپ کے لئے انتہائی طور پر صبر آزما تھا لیکن آپ نے صبر وقتل کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال انبیائے کرام کی پاکیزہ زندگیوں میں ہی مل سکتی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ماموریت کے مقام پر فائز فرمایا اورسینکڑوں آدمی آپ کے دستر خوان سے کھانا کھانے لگے تو بعض اوقات وہ پچھلا وقت آپ کو یاد آ جاتا تھا اور آپ اس کا ذکر بھی فرماتے تھے۔چنانچہ ایک نظم میں یہ شعر بھی اسی سلسلہ میں فرما دیا ہے کہ لْفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكْلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِئ یعنی ایک زمانہ وہ تھا کہ دسترخوان کے بچے کھچے ٹکڑے میری خوراک تھی اور آج اللہ تعالیٰ کا مجھ پر اس قدر احسان ہے کہ سینکڑوں ہزاروں افراد میرے دستر خوان سے کھانا کھاتے ہیں۔فالحمد للہ علی ذلک۔مذکورہ بالا ایام آپ کے لئے اس قدر شدید اور حوصلہ شکن تھے کہ ایک دفعہ آپ نے کسی دینی ضرورت کے پیش نظر ایک اخبار منگوانے کے لئے نہایت ہی قلیل رقم اپنے بھائی سے منگوانی چاہی۔مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ اسراف ہے۔تائی آئی تائی آئی حضرت اقدس کو یہ الہام ۱۹۰۰ء میں ہوا تھا۔اس وقت کچھ نہیں سمجھا گیا کہ اس سے کیا مراد ہے۔لیکن خدا کی قدرت کہ حضرت اقدین کی وہی بھاوج صاحبہ جن کے ہاتھوں آپ کو تکلیفیں پہنی تھیں۔اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ۱۹۲۱ء میں حضرت اقدس کے فرزند حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل سلسلہ احمدیہ ہو گئیں اور اس وقت یہ بات سمجھ میں آئی کہ الہام ” تائی آئی کا کیا مطلب تھا۔خاتون موصوفہ سارے خاندان میں ” تائی“ کے لقب ہی سے مشہور تھیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخلاص میں اس قدر ترقی دی کہ آپ نے وصیت بھی کر دی اور یکم دسمبر ۱۹۲۷ء کو ۹۷ سال کی عمر پا کر فوت ہوئیں اور مقبرہ بہشتی قادیان میں مدفون ہوئیں۔فانا للہ وانا اليه راجعون۔