حیات طیبہ — Page 42
42 میں کندہ کرا کے انگوٹھی بنوا لا ئیں۔چنانچہ لالہ ملاوامل امرتسر گئے اور مبلغ پانچ روپیہ میں انگشتری تیار کروا کر لے آئے اور اس طرح سے ایک ہندو اور مسلمان ہندوستان کی دونوں بڑی بڑی قوموں کی طرف سے بطورنمائندہ ہو کر اس عظیم الشان نشان کے گواہ بن گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ انگشتری اب حضرت مرزا بشیر الدین محموداح خلیفہ اسی الثانی ایده ال تعالی بنصرہ العزیز کے پاس ہے یعنی قرعہ اندازی کے ذریعہ ان کے حصہ میں آچکی ہے۔اس انگوٹھی کے علاوہ دو انگوٹھیاں حضرت اقدس کے پاس اور بھی تھیں۔اُن میں سے ایک ۱۸۹۲ء میں بنوائی گئی تھی جس پر حضرت اقدس کا الہام أذْكُرْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكَ غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِی وَ قُدرتی درج تھا۔دوسری ! ء میں تیار ہوئی۔بن باجوہ ضلع سیالکوٹ کے ایک مخلص زرگر خاندان نے حضرت اقدس سے درخواست کی کہ ہم ایک انگوٹھی حضور کے لئے بنانا چاہتے ہیں۔اس پر کیا لکھا جائے۔حضور نے فرمایا ”مولا بس حضرت اقدس کی وفات کے کچھ عرصہ بعد حضرت اماں جان نے یہ تینوں انگوٹھیاں قرعہ اندازی سے تقسیم فرما ئیں اور عجیب بات ہے کہ کئی مرتبہ کی قرعہ اندازی سے ایک ہی بات ظاہر ہوئی یعنی پہلی انگوٹھی جس پر الیس الله بکاف عبدہ درج ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے نام نکلی۔اور دوسری جس پر الہام اذكر نعمتي۔۔۔الخ درج ہے حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب کے نام نکلی۔اور تیسری جس پر مولا بس درج ہے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے حصہ میں آئی۔والد ماجد کی تدفین مسجد اقصٰی کے پہلو میں مسجد اقصی جس کے پہلو میں آپ کے والد ماجد اپنی نشان زدہ جگہ میں دفن کئے گئے۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعمیر کی مختصر تاریخ بھی بیان کر دی جائے کیونکہ اس کے ساتھ بھی سلسلہ کی بہت سی روایات وابستہ ہیں۔سو گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ زمینداری کے مقدمات میں مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے آخری عمر میں آپ سم کار جوع بڑے زور کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف ہو گیا تھا۔چنانچہ آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ دنیا کے لئے دولت کثیر صرف کر دی ہے مگر سوائے حسرت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔اب کیوں نہ خدا تعالیٰ کا نام بلند کرنے کے لئے ایک مسجد تعمیر کی جائے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے آپ نے گاؤں کے وسط میں سات سو روپیہ خرچ کر کے سکھ کارداروں کی ایک افتادہ حویلی خریدی اور بڑے اخلاص و ندامت بھرے دل کے ساتھ ایک مسجد کا سنگ بنیا درکھا۔ا حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب