حیات طیبہ

by Other Authors

Page 371 of 492

حیات طیبہ — Page 371

371 صاحب نے عرض کی کہ حضور فیروز شاہ کی لاٹ، مہابت خاں کی مسجد، لال قلعہ وغیرہ مقامات دیکھے ہیں۔فرمایا۔ہم تو حضرت بختیار کا کئی، نظام الدین اولیاء، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب وغیرہ کی قبروں پر جانا چاہتے ہیں۔دہلی کے یہ لوگ جو سطح زمین کے اوپر ہیں نہ ملاقات کرتے ہیں نہ ملاقات کے قابل ہیں۔اس لئے جو اہلِ دل لوگ ان میں سے گزر چکے ہیں اور زمین کے اندر مدفون ہیں۔ان سے ہی ہم ملاقات کر لیں۔تا کہ بدوں ملاقات تو واپس نہ جائیں۔میں ان بزرگوں کی یہ کرامت سمجھتا ہوں کہ انہوں نے قسی القلب لوگوں کے درمیان بسر کی۔اس شہر میں ہمارے حصہ میں ابھی وہ قبولیت نہیں آئی جو ان لوگوں کو نصیب ہوئی ہے۔چشم باز و گوش باز و این ذکا خیره ام از چشم بندی خدا اسلام پر یہ کیا مصیبت کا زمانہ ہے۔اندرونی مصائب بھی بے انتہا ہیں اور بیرونی بھی بے حد ہیں۔پھر یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔الخ قبروں کی زیارت چنانچہ اس پروگرام کے ماتحت حضور ۲۶/اکتوبر ۱۹۰۵ ء کو حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے بیٹے حضرت مولانا شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ میر در درحمہ اللہ علیہ اور دیگر بزرگوں کے مزاروں پر تشریف لے گئے۔حضرت شاہ ولی اللہ کی نسبت فرمایا کہ یہ بزرگ صاحب کشف وکرامت تھے۔حضرت اقدس نے ۲۸ اکتوبر کو اپنی قیامگاہ پر ظہر سے لے کر عصر تک ایک تقریر فرمائی۔اور دس دوست بیعت میں داخل ہوئے۔۲۹ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو صبح کے وقت حضور سلطان محبوب سبحانی نظام الدین اولیاء کے مزار پر تشریف لے گئے۔وہاں ہی امیر خسرو کی قبر بھی تھی۔حضور نے دونوں قبروں پر دُعا فرمائی۔خواجہ حسن نظامی صاحب بڑے اصرار کے ساتھ حضور کو اپنے حجرے میں لے گئے اور ایک کتاب بنام ” شواہد نظامی پیش کی۔حضرت اقدس اور حضور کے خدام کی چائے سے تواضع کی۔اسی روز نماز ظہر کے بعد میرٹھ اور بلب گڑھ کے چند دوستوں نے بیعت کی۔جس کے بعد حضرت اقدس