حیات طیبہ — Page 355
355 تھیں۔اس زلزلہ نے مشرقی پنجاب کے علاقوں کو سخت نقصان پہنچایا۔چنانچہ پیسہ اخبار لاہور نے لکھا کہ موضع دودہ در تحصیل جگا دھری ضلع انبالہ کے سارے آدمی رات کو سوئے ہوئے مر گئے۔صرف تین آدمی بچے اور تیرہ ضلع سہارنپور میں ایک سوکھا کنواں پانی سے بھر گیا۔حضرت اقدس اور حضور کے خدام پہلے تو سمجھے کہ زلزلہ عظیمہ جس کی پیشگوئی کی گئی تھی۔یہی ہے لیکن جلد ہی الہام الہی نے اس غلط فہمی کو رفع کر دیا اور بتلا دیا کہ وہ موعودہ زلزلہ جسے قیامت کا نمونہ کہا گیا تھا وہ آئندہ کسی وقت آئے گا۔اشتہار زلزلہ کی پیشگوئی چنانچہ آپ نے ۲ مارچ ۱۹۰۶ء کو ایک اشتہار زلزلہ کی پیشگوئی“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔جس میں اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا۔ނ ہے ہے دوستو ! جاگو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو پھر خدا قدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقین جانو کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے آنکھ کے پانی یارو کچھ کرو اس کا علاج آسماں آے غافلو اب آگ برسانے کو ”اے عزیزو! آپ لوگوں نے اس زلزلہ کو دیکھا ہوگا جو ۲۸ فروری ۱۹۰۶ء کی رات کو ایک بجے کے بعد آیا تھا۔یہ وہی زلزلہ تھا۔جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں فرمایا تھا۔” پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔چنانچہ میں نے یہ پیشگوئی رسالہ الوصیت کے صفحہ ۱۴-۴-۳ میں نیز اپنے اشتہارات اور اخبار الحکم اور بدر میں شائع کر دی تھی۔سو الحمد للہ والمتہ کہ اسی کے مطابق عین بہار کے ایام میں یہ زلزلہ آیا، لیکن آج یکم مارچ ۱۹۰۶ ء کو صبح کے وقت پھر خدا نے یہ وحی میرے پر نازل کی۔جس کے الفاظ یہ ہیں۔زلزلہ آنے کو ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے۔وہ ابھی نہیں آیا۔بلکہ آنے کو ہے اور یہ زلزلہ اس کا پیش خیمہ ہے جو پیشگوئی کے مطابق پورا ہوا۔“ اس کے بعد حضور نے اپنی کتاب ”چشمہ مسیحی میں مذکورہ بالا اشعار کے ساتھ کچھ اور اشعار ملا کر اپنی یہ نظم مکمل فرما دی۔