حیات طیبہ

by Other Authors

Page 338 of 492

حیات طیبہ — Page 338

338 میں انہیں ایک بُرج میں رکھا گیا۔کہا جاتا ہے کہ اس صدمہ سے اُن کا دماغی توازن بگڑ گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد انہیں حبس دم کر کے مار دیا گیا۔یہ بھی مشہور ہے کہ ڈاکٹر احمد بیگ ترک معاون ڈاکٹر منیر عزت نے اواخر ا پریل 1919ء میں امیر امان اللہ خاں کے حکم سے زہر کھلا کر ماردیا تھا۔پنجابی ڈاکٹر عبد الغنی کا حشر ڈاکٹر عبدالغنی ” پنجابی ڈاکٹر کو جس نے مجلس بحث میں ثالث کے فرائض انجام دیئے تھے معہ اپنے بھائیوں کے گیارہ سال تک اسیر زندان رہنا پڑا۔جب اس کی بیوی کائل سے پنجاب آنے لگی تو راستہ میں بمقام لنڈی کو تیل سرائے میں مرگئی۔اور پبلک نے چندہ کر کے کفن دفن کا انتظام کیا۔اس کا نوجوان لڑکا عبدالجبار شہر کا بل میں سودا لے کر بازار سے گھر جارہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے تلوار مار کر سرتن سے جدا کر دیا۔اس کا ایک دوسر الر کا تھا جو اپنے وطن ضلع گجرات میں ویٹرنری ہسپتالوں میں ڈریسر کا کام کرتا رہا ہے اور اب فارغ ہو کر پیرانہ سالی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ملاں عبد الرزاق قاضی کا حشر ملاں عبدالرزاق قاضی جس نے شہید مرحوم کو سب سے پہلا پتھر مارا تھا۔اس کا یہ حشر ہوا کہ امیر کابل حبیب اللہ خاں نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ کوئی شخص کسی سڑک پر دائیں طرف نہ چلا کرے بلکہ سب لوگ بائیں طرف چلا کریں۔ایک روز امیر کابل سڑک پر گذر رہے تھے۔دیکھا کہ ملاں عبدالرزاق خاں ملائے حضور سڑک کے دائیں طرف چل رہے ہیں اور ڈیوٹی والا سپاہی روک رہا ہے مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتے یہ دیکھ کر امیر کابل نے انہیں ایک ہزار روپیہ مجرمانہ کی سزا دیدی۔بعد ازاں جب امیر امان اللہ خاں کا زمانہ آیا۔تو انہوں نے حاجی عبدالرزاق کو کوڑے لگوائے اور مجرموں کی طرح روزانہ حاضری کا حکم دیا۔اس سزا کے بعد وہ کابل سے ایسے غائب ہوئے کہ گویا زندہ درگور ہو گئے۔اے امیر حبیب اللہ کے خاندان سے حکومت نکل گئی اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو اُسی وقت امیر حبیب اللہ کے خاندان سے حکومت چھین لیتا مگر اس نے کچھ مہلت دی کہ یہ خاندان اپنی اصلاح کرلے مگر جب کوئی بھی اچھا کام اس خاندان سے نہ ہوسکا۔بلکہ ان لوگوں نے متعدد لے ان واقعات کی تفصیل کے لئے دیکھئے شهداء الحق مصنفہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری سابق امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ سرحد