حیات طیبہ

by Other Authors

Page 327 of 492

حیات طیبہ — Page 327

327 ۱۹۰۴ ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس سے قبل جب انہوں نے حضرت اقدس کو تنگ کرنا شروع کیا تھا تو اُن کا ایک جوان بیٹا بیمار پڑ گیا تھا اور حضرت اقدس کے متعلق اس کی بیوی کو خواب میں بتایا گیا تھا کہ اس راستباز کو اگر تیرے شوہر نے سزا دی تو تم پر وبال آئے گا۔اس نے یہ خواب لالہ جی کو سنادی مگر افسوس کہ لالہ جی کا دل پلا طوس سے جس کے سامنے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مقدمہ پیش کیا گیا تھا۔زیادہ سخت نکلا۔اس نے تو اپنی بیوی کے خواب سے متاثر ہو کر برسر عدالت پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے تھے اور کہا تھا کہ میں اس شخص میں کوئی مجرم نہیں پاتا۔مگر یہودیوں نے چلا چلا کر اُسے کہا تھا کہ اسے صلیب دے۔اسے صلیب دے۔تب اُس نے کہا۔اس خونِ ناحق کا وبال کس پر ؟ تو یہودیوں نے کہا۔کہ ہم پر اور ہماری اولاد پر۔مگر افسوس کہ یہ مجسٹریٹ (لالہ آتما رام صاحب) پلاطوس سے بھی زیادہ سخت دل نکلے۔اور سار او بال اپنی گردن پر ہی برداشت کر لیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب انہوں نے فیصلہ دیا تو پہلے ان کا وہ جوان بیٹا جو بیمار تھا وہ مر گیا اور پھر ہمیں پچیس روز کے بعد دوسرا بیٹا مر گیا اور حضرت اقدس کے ایک کشف کے مطابق وہ اولاد کے غم میں مبتلا ہو گئے۔اے اُوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ فیصلہ سنانے کے لئے لالہ آتما رام نے یکم اکتوبر ۱۹۰۴ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس روز غیر احمدیوں کا ایک جم غفیر احاطہ کچہری میں موجود تھا اور احمدی احباب بھی اڑھائی تین سو کے قریب کراچی، حیدرآباد سندھ، پشاور، وزیر آباد، کپورتھلہ ، قادیان لاہور، امرتسر ، نارووال، دینا نگر وغیرہ وغیرہ مقامات سے آئے ہوئے تھے۔غالبا اس کثرت اثر د حام کو دیکھ کر یا کسی اور مصلحت سے مجسٹریٹ صاحب نے اس روز فیصلہ نہ سنایا۔بلکہ فیصلہ سنانے کی تاریخ ۸/اکتوبر ۱۹۰۴ء مقرر کر دی۔اُن کا ارادہ چونکہ حضرت اقدس کے متعلق خطر ناک تھا۔اس لئے انہوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ حضرت اقدس کے مقدمہ کا فیصلہ اس وقت سنایا جائے جبکہ عدالت کا وقت ختم ہورہا ہو اور مجرمانہ کی ادائیگی کا فوری طور پر انتظام نہ ہو سکے۔دوسرے انہوں نے مصلحنا فیصلہ سنانے کا دن ہفتہ مقرر کیا۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ مجسٹریٹ کی نیت یہ تھی کہ میں فیصلہ سناتے سناتے کچہری کا وقت گزار دوں گا اور پھر مجرمانہ کی رقم پیش کرنے پر کہہ دوں گا کہ اب کچہری کا وقت ختم ہو چکا ہے لہذا جرمانہ پرسوں بروز پیر وصول کیا جائے گا اور اس طرح سے (حضرت) مرزا صاحب کو کم از کم دودن جیلیخا نہ میں رہنا پڑے گا۔خاکسار راقم الحروف نے جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن سے اس امر کی تصدیق چاہی تو آپ نے بھی اس کا اثبات میں جواب دیا۔سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے جو مقدمہ مولوی کرم الدین اور ایڈیٹر سراج الاخبار کے خلاف کیا تھا۔مجسٹریٹ صاحب نے پہلے اس کا فیصلہ سنایا۔جو یہ تھا کہ ملزمان کو کہا گیا کہ تمہارا جرم ثابت ہے اور تمہارے لے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۲۱، ے بعد میں جب دن کی تعیین کے لئے تقویم عمری دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ واقعی ۸ اکتو بر ۱۹۰۴ء کو ہفتہ کا دن ہی تھا۔