حیات طیبہ — Page 326
326 با قاعدہ گری ملتی تھی مگر انہوں نے آپ کو نہ صرف گری دینے سے انکار کیا بلکہ بعض دفعہ سخت پیاس کے باوجود پانی پینے کی بھی اجازت نہ دی اور تاریخیں بھی جلد جلد مقرر کرنی شروع کیں۔تا کہ حضور آرام کرنے کے لئے قادیان بھی نہ جاسکیں۔اس لئے حضور نے ۱۳ اگست ۱۹۰۴ء سے ایک مکان کرایہ پر لے کر معہ اہل وعیال گورداسپور میں سکونت اختیار فرمائی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کی گواہی اس مقدمہ میں عموما الفاظ کذاب اور لیم پر بخشیں ہوا کرتی تھیں۔بڑے بڑے مولوی صاحبان لغت اور ادب عربی کی کتابیں لے کر پیش ہوا کرتے تھے۔گو سارے مولویوں کے علم اور دیانت کا پول عدالت میں کھل گیا، لیکن سب سے زیادہ ذلیل مولوی ثناء اللہ صاحب کو ہونا پڑا اور وہ اس طرح کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی شہادت میں مولوی کرم الدین کو متقی ثابت کرنے کے لئے کہہ دیا کہ متقی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ جھوٹ نہ بولے۔اور یہ انہیں اس لئے کہنا پڑا کہ لالہ چند ولعل صاحب اپنے ایک فیصلہ میں مولوی کرم الدین کے جھوٹا ہونے کا فیصلہ دے چکے تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی اس بات کی تائید میں سند کے طور پر سورہ بقرہ کی پہلی آیات پیش کیں۔جہاں ایمانیات کا تو ذکر ہے۔مگر اعمال کی تفصیل موجود نہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب کی اس منطق پر جرح کرتے ہوئے جب خواجہ کمال الدین صاحب نے پوچھا کہ مولانا! پھر یہاں چوری کرنے ، زنا کرنے اور شراب پینے کا بھی تفصیلی ذکر نہیں تو کیا متقی کے لئے یہ کام بھی جائز ہیں؟ مولوی صاحب کو تو چونکہ بہر کیف متقی ثابت کرنا تھا۔اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ ہاں ! اس پر عدالت میں ایک فرمائشی قہقہ لگا۔اور مولوی صاحب خفیف ہو کر رہ گئے۔مصالحت کی کوشش مقدمات چونکہ بہت لمبے ہو گئے تھے۔اس لئے عدالت کے ایما پر بعض دردمند دل مسلمانوں نے چاہا کہ درمیان میں پڑ کر مصالحت کرا دیں لیکن مصالحت نہیں ہو سکی۔اس پر پھر مقدمات عدالت میں چلنے شروع ہو گئے۔لالہ چند ولعل مجسٹریٹ نے جو فرد جرم عائد کی تھی اُسے لالہ آتما رام نے بھی بحال رکھا۔صفائی کے گواہوں میں پیر مہر علی شاہ صاحب بھی تھے۔کیونکہ اُن کے ہاتھ کے لکھے ہوئے خط کی تصدیق کروانا بھی ضروری تھا۔مگر عدالت نے ان کو بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔حالانکہ سب سے زیادہ ضروری گواہ وہی تھے۔مگر جب مجسٹریٹ کی نیت ہی بخیر نہ ہو تو کیا کیا جاسکتا ہے۔مقدمہ کا فیصلہ ۱۸/اکتوبر ۱۹۰۴ء شہادت صفائی کے ختم ہونے کے بعد مقدمہ کا فیصلہ سنانے کے لئے لالہ آتما رام صاحب نے یکم اکتوبر