حیات طیبہ

by Other Authors

Page 325 of 492

حیات طیبہ — Page 325

325 اس لئے انہوں نے ۱۰؍ مارچ کو حضرت اقدس اور حکیم مولوی فضل الدین پر فرد جرم لگا ہی دی ۱۳/ مارچ ۱۹۰۴ ء کو ڈاکٹری سرٹیفکیٹ کی معیاد ختم ہو رہی تھی لیکن حضرت اقدس کی طبیعت ابھی پورے طور پر بحال نہیں ہوئی تھی۔اس لئے ۱۳ مارچ کو پھر ڈاکٹر کو گورداسپور سے قادیان بلایا گیا۔اس نے دیکھ کر کہا کہ ابھی اور آرام کی ضرورت ہے چنانچہ ایک ماہ کے لئے اس نے اور سرٹیفکیٹ دے دیا۔جب ۱۴ / مارچ ۱۹۰۴ء کو یہ سرٹیفکیٹ پیش ہوا تو چند لحل صاحب مجسٹریٹ بہت برہم ہوئے اور اگلے روز ۱۵ تاریخ کو سول سرجن کو عدالت میں طلب کر کے حلفی بیان دینے کا حکم دیا حالانکہ اسی عدالت میں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی طرف سے ہر تاریخ کو ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش ہوتا رہا۔مگر اسی مجسٹریٹ نے ڈاکٹر کو حلفی بیان دینے کے لئے ایک بار بھی طلب نہیں کیا تھا۔بموجب حکم عدالت ڈاکٹر صاحب نے آکر حلفی شہادت دے دی۔اس پر ا ار اپریل کی تاریخ دے دی گئی۔لالہ چند ولعل کا تنزل حضرت اقدس کے ساتھ لالہ چند ولعل صاحب کا سلوک اس قسم کا نہ تھا کہ اللہ کی غیرت اُن کے خلاف نہ بھڑکتی۔اب اتفاق ایسا ہوا کہ گورداسپور جیل میں ایک روز کسی مجرم کو پھانسی کی سزاملنی تھی اور ایسے موقعہ پر قاعدہ ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کسی مجسٹریٹ کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے اور اس کے سامنے مجرم کو پھانسی دی جاتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس روز لالہ چند ولعل صاحب کی ڈیوٹی لگادی۔لالہ صاحب موصوف نے اپنے رقیق القلب ہونے کی بناء پر معذرت کی اور کہا کہ میں کسی مجرم کو پھانسی لگتے دیکھ نہیں سکتا۔اس لئے کسی اور مجسٹریٹ کی ڈیوٹی لگا دی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے لکھا کہ تم فوجداری کے مجسٹریٹ ہو۔کل کو ترقی کر کے اگر سشن حج ہو گئے تو کیا کرو گے؟ کیا مجرموں کو پھانسی کا حکم نہیں سناؤ گے؟ لہذا تمہیں ضرور اس ڈیوٹی پر جانا ہوگا۔چند ولعل صاحب نے اپنی بات پر پھر اصرار کیا۔جس پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے گورنمنٹ میں رپورٹ کر دی کہ ایسا کمزور دل مجسٹریٹ فوجداری مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے مناسب و موزوں نہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اا ا پریل تاریخ پیشی سے پہلے پہلے چند ولعل صاحب کا عہدہ گھٹا کر انہیں منصف بنا دیا گیا اور وہ ملتان میں تبدیل کر دیئے گئے اور حضرت اقدس کا الہام إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَ اهانتك ایک دفعہ پھر بڑی صفائی کے ساتھ پورا ہو گیا۔نئے مجسٹریٹ لالہ آتما رام کا حضرت اقدس سے سلوک لالہ چند وعمل صاحب کی جگہ نئے مجسٹریٹ لالہ آتما رام صاحب مقرر ہوئے۔وہ بھی بہت متعصب آریہ تھے انہوں نے جو طریق اختیار کیا وہ لالہ چند ولعل سے بھی سخت تھا۔ان سے قبل حضرت اقدس کو ہر عدالت میں