حیات طیبہ — Page 308
308 کے دستخط ثبت ہونے چاہئیں۔اور کم سے کم اس مضمون کا سات سو اشتہار ملک میں شائع ہونا چاہئے اور میں اشتہار بذریعہ رجسٹری مجھے بھی بھیج دیں۔مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ میں انہیں مباہلہ کے لئے چیلنج کروں یا ان کے بالمقابل مباہلہ کروں۔ان کا اپنا مباہلہ جس کے لئے انہوں نے مستعدی ظاہر کی ہے میری صداقت کے لئے کافی ہے۔“ تیسری بات یہ تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا تھا کہ میں اگر چاہوں تو اجاز مسیح ، جیسی کتاب عربی زبان میں لکھ سکتا ہوں۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں ایک مضمون اردو اور ایک قصیدہ عربی معہ ترجمہ اردو اعجاز احمدی کے نام سے شائع فرمایا اور نہ صرف مولوی ثناء اللہ صاحب کو بلکہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی، مولوی اصغر علی صاحب روحی پروفیسر عربی اسلامیہ کالج لاہور، مولوی علی حائری صاحب شیعہ مجتہد لاہور، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور قاضی ظفر الدین صاحب پر وفیسر اور مینٹل کالج لاہور کو بھی چیلنج کیا کہ اگر وہ اُردو مضمون کے جواب میں اُردو مضمون اور عربی قصیدہ کے جواب میں عربی قصیدہ معہ ترجمہ مدت معینہ کے اندر شائع کر دیں تو انہیں دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا اور یہ بھی لکھ دیا کہ انہیں بذریعہ عدالت بھی اس انعام کے حاصل کر لینے کا حق ہو گا۔اے حضرت اقدس نے اعجاز احمدی“ کے مکمل ہونے پر اس کا ایک نسخہ دیگر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کو بتاریخ ۱۶ د نومبر ۱۹۰۲ ء امرتسر بھیجا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو پہنچا دیں اور اسی روز دوسرے مخالفین کو بھی بصیغہ رجسٹری ایک ایک کتاب بھیج دی اور کتاب کی عام اشاعت بھی کر دی۔مخالفین کے قلم ٹوٹ گئے میعاد مقررہ گذرگئی۔مگر کسی مخالف کو اعجاز احمدی کی نظیر لانے کی توفیق نہ ملی۔سب کے قلم ٹوٹ گئے۔البتہ قاضی ظفر الدین صاحب پر وفیسر اور مینٹل کالج لاہور نے اشعار کا جواب لکھنا شروع کیا تھا اور ابھی چند ہی شعر لکھے تھے کہ اچانک بیمار پڑ گئے اور فوت ہو گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے نہ تو کتاب اعجاز احمدی کا جواب لکھا اور نہ مباہلہ پر تیار ہوئے۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ۲۷ نومبر ۱۹۰۳ء ایک شخص مولوی عبداللہ نام موضع چکڑالا ضلع میانوالی کے رہنے والے تھے پہلے اہلحدیث تھے، مگر پھر لے تفصیل کے لئے دیکھئے حضور کی تصنیف اعجاز احمدی