حیات طیبہ — Page 273
273 صرف چور بلکہ کذاب بھی کہ ایک گندہ جھوٹ اپنی کتاب میں شائع کیا اور کتاب میں لکھ مارا کہ یہ میری تالیف ہے حالانکہ یہ اس کی تالیف نہیں۔‘1 اس کے بعد حضرت اقدس نے میاں شہاب الدین کے دو خط نقل فرمائے ہیں جن میں سے ایک تو حضرت اقدس کے اور دوسرا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے نام ہے۔ان دونوں خطوط میں اُس نے وہ تمام باتیں لکھی ہیں۔جن کا اوپر حضرت اقدس نے ذکر فرمایا ہے۔حضرت اقدس اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب دونوں نے میاں شہاب الدین کو لکھا کہ وہ دونوں کتا ہیں یعنی اعجاز امسیح اور شمس بازغہ جن پر مولوی محمد حسن متوفی کے دستخطی نوٹ موجود ہیں۔خرید کر ساتھ لے آؤ۔اس کے جواب میں میاں شہاب الدین نے لکھا کہ : آپ کا حکم منظور لیکن محمد حسن کا والد کتا بیں نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ میرے روبرو بے شک دیکھ لومگر مہلت کے واسطے نہیں دیتا۔خاکسار معذور ہے۔کیا کرے۔دوسری مجھ سے ایک غلطی ہو گئی کہ ایک خط گولڑوی کو لکھا کہ تم نے خاک لکھا کہ جو کچھ محمد حسن کے نوٹ تھے وہی درج کر دیئے اس واسطے گولڑوی نے محمد حسن کے والد کو لکھا ہے کہ ان کو کتابیں مت دکھاؤ۔کیونکہ یہ شخص ہمارا مخالف ہے۔اب مشکل بنی کہ محمد حسن کا والد گولڑوی کا مرید ہے اور اس کے کہنے پر چلتا ہے۔مجھ کو نہایت افسوس ہے کہ میں نے گولڑوی کو کیوں لکھا جس کے سبب سے سب میرے دشمن بن گئے۔براہ عنایت خاکسار کو معاف فرماویں کیونکہ میرا خالی آنا مفت کا خرچ ہے اور کتابیں وہ نہیں دیتے" فقط۔خاکسار شہاب الدین از مقام بھیں تحصیل چکوال۔سے جو خط حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے میاں شہاب الدین کو لکھا۔وہ خط اس نے مولوی کرم دین صاحب کو دکھایا۔مولوی کرم الدین سکنہ بھیں جو کہ بعد میں حضرت اقدس کے شدید مخالف ہو گئے۔اُس وقت کو حضرت اقدس پر حسن ظن رکھتے تھے چنانچہ انہوں نے بھی حضرت اقدس کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ اپنے عقیدت مندانہ جذبات کا اظہار کرنے کے بعد لکھا کہ: کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالب علم کے ذریعہ سے مجھے ایک خط رجسٹری شده جناب مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف سے ملا جس میں پیر صاحب گولڑوی کی سیف له نزول المسیح از صفحه ۶۸ تا ۷۰ سے دیکھئے نزول مسیح صفحہ ۷۲ تا ۷۴ حاشیہ سے خط بنام حضرت اقدس مندرجہ نزول المسیح صفحه ۷۳، ۷۴ حاشیہ کے نزول المسیح صفحہ ۷۵ تاے سے حاشیہ