حیات طیبہ

by Other Authors

Page 188 of 492

حیات طیبہ — Page 188

188 جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائے گا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کر لے۔پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا۔اِنَّ الله مَعَكَ إِنَّ اللهَ يَقَومُ أَيْمَا قمت یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہوتا ہے۔یہ حمایتِ الہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔اب میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کو یہی اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا اپنا حرج کر کے بھی ان معارف کو سننے کے لئے ضرور بمقام لاہور تاریخ جلسہ پر آویں کہ ان کی عقل اور ایمان کو اس سے وہ فائدے حاصل ہوں گے کہ وہ گمان نہیں کر سکتے ہوں گے۔یہ اشتہار جو ایک زبردست پیشگوئی پر مشتمل تھا ملک کے طول و عرض میں پہنچادیا گیا۔لاہور کے درودیوار پر بھی چسپاں کیا گیا اور لوگوں میں تقسیم بھی کیا گیا۔پھر جب جلسہ کی تاریخ آئی تو تمام مذاہب کے نمائندے حاضر تھے۔حضرت اقدس کی تقریر کے لئے وقت ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک تھا۔۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے جب مضمون پڑھنا شروع کیا تو لوگوں پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی ہر طرف سے تحسین و آفرین کے نعرے بلند ہورہے تھے۔جب دو گھنٹے جو اس تقریر کے لئے مقرر تھے گذر گئے اور مضمون کا ابھی ایک حصہ بھی ختم نہ ہوا تھا تو لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ یہ مضمون ہم نے ضرور سننا ہے خواہ اس کے لئے ایک دن الگ مقرر کر دیں۔چنانچہ موڈریٹر صاحبان سے مجبور ہو گئے اور انہوں نے اس مضمون کے لئے ۲۹؍ دسمبر کا دن بڑھا دیا۔جب یہ تقریر ختم ہوئی۔تو ایک معزز ہندو کی زبان سے جو اس جلسہ کا صدر تھا بے اختیار نکلا کہ یہ مضمون تمام مضمونوں سے بالا رہا اور لاہور کے مشہور انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے لکھا کہ جلسہ اعظم مذاہب لاہور جو ۲۶-۲۷-۲۸ / دیسمبر ۹۶ء کو اسلامیہ کالج لاہور کے ہال میں منعقد ہوا۔اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے مندرجہ ذیل پانچ سوالوں کا جواب دیا ( آگے پانچوں سوالات نقل کئے گئے ہیں) لیکن سب مضمونوں سے زیادہ توجہ اور زیادہ دلچسپی سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مضمون سنا گیا۔جو اسلام کے بڑے بھاری مؤید اور عالم ہیں۔اس لیکچر کو سننے کے لئے ہر مذہب وملت کے لوگ کثرت کے ساتھ جمع تھے۔چونکہ مرزا صاحب خود اه تبلیغ رسالت اشتہار ۲۱ / دیسمبر ۹۶ سے بعد میں مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے بھی اپنا وقت اس مضمون کے مکمل سنائے جانے کے لیے دیدیا تھا۔سے اس جلسہ کے موڈریٹر صاحبان ( یعنی منتظمین ) مندرجہ ذیل اصحاب تھے (۱) رائے بہادر پر تول چندر حج چیفکورٹ پنجاب (۲) خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب حج سال کا کورٹ لاہور (۳) رائے بہادر پنڈت رادھا کشن کول پلیڈر چیفکورٹ (۴) حضرت مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب بھیروی (۵) رائے بہادر بھوانی داس ایم۔اے سیٹلمنٹ آفیسر جہلم (۶) سردار جواہر سنگھ سکرٹری خالصہ کالج کمیٹی لاہور