حیات طیبہ — Page 174
174 میں نے جھوٹ کہا ہے یا میرے دل میں اس کے خلاف کوئی بات ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ ایک سال کے اندر مجھے جذام ہو جائے یا اندھا ہو جاؤں یا کسی اور بڑے عذاب میں مرجاؤں۔فقط۔تب تمام حاضرین تین مرتبہ بلند آواز سے کہیں۔آمین آمین آمین۔اور پھر جلسہ برخاست ہو۔پھر ایک سال وہ قسم کھانے والا محفوظ رہا۔تو کمیٹی مقرر شدہ رسل بابا کا ہزار روپیہ اس کو عزت کے ساتھ واپس کر دے گی۔تب ہم بھی اقرار شائع کریں گے کہ حقیقت میں رسل بابا نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دی ہے۔مگر ایک برس تک روپیہ کمیٹی مقرر شدہ کے پاس جمع رہے گا اور اگر رسل بابا صاحب نے اس رسالہ کے شائع ہونے سے دو ہفتہ تک ہزار روپیہ نہ جمع کرایا تو ان کا صریح کذب اور دروغ ثابت ہو جائے گا۔تب ہر ایک کو چاہئے کہ ایسے دروغ گولوگوں کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگیں اور ان سے پر ہیز کریں۔‘1 جب حضرت اقدس کا رسالہ جو اتمام الحجہ کے نام سے لکھا گیا تھا۔چھپ گیا تو حضرت اقدس نے یہ رسالہ مولوی رسل بابا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور رؤسائے مذکورہ امرتسر کو بصیغہ رجسٹری بھجوادیا۔مگر مولوی رسل بابا کو ہمت نہ ہوئی کہ ان شرائط کو منظور کر کے میدان میں نکلیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی جماعت میں سے حضرت میاں جیون کے بٹ، میاں محمد سلطان صاحب، میاں غلام رسول صاحب اور بعض دوسرے مخلصین نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔مولوی رسل بابا طاعون کا شکار ہو گئے۔۸ /دسمبر ۱۹۰۲ء اس واقعہ کے چند سال بعد جب حضرت اقدس نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر اس امر کا اعلان فرمایا کہ ملک میں طاعون پھیلنے والا ہے تو مولوی رسل بابا نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ اس شدید طاعون سے محفوظ رہنا ہماری صداقت کی دلیل ہے۔جب رسل بابا کی اس دلیل صداقت کا شہر بھر میں شہرہ ہو گیا تو وہ مورخہ ۸ / دسمبر ۱۹۹۰۲ء کو طاعون کا شکار ہو گئے اور اپنی موت کو سلسلہ کی سچائی کا نشان قرار دے گئے۔تصانیف سن ۱۸۹۴ء ۱ - حمامۃ البشری۔یہ کتاب حضور نے ایک مخلص عرب محمد بن احمد ملکی کی تحریک پر اہل حجاز کے لئے تصنیف فرمائی۔اس کتاب میں حضور نے اپنے عقائد اور دعاوی کی وضاحت فرمائی ہے۔-۲- نور الحق حصہ اول و دوم۔یہ بھی حضور کی عربی تصنیف ہے۔اس کا پہلا حصہ فروری ۹۴ ء اور دوسرا حصہ مئی رساله اتمام الحجۃ صفحہ ۲۸ سے جو بعد میں حضرت مولاناسیدسرورشاہ صاحب کے خسر بنے۔