حیات طیبہ — Page 173
173 جہان کے لئے ہے۔تیسرے پہلے مشرقی کرہ میں گرہن پڑنے سے غالبا اس طرف بھی اشارہ تھا کہ اس کی بعثت مشرقی کرہ میں ہوگی اور پھر اس کی طرف سے دعوت اسلام مغربی گرہ کو دی جاوے گی۔واللہ اعلم وعلمہ اتھ۔خواجہ کمال الدین صاحب کی بیعت ۱۸۹۴ء خواجہ کمال الدین صاحب فورمین کرسچین کالج لاہور میں پڑھتے تھے۔ماحول کے اثر سے عیسائیت کی طرف راغب ہو چکے تھے مگر اللہ تعالی کی دستگیری اس طرح ہوئی کہ کہیں سے آپ کو براہین احمدیہ مل گئی۔بس پھر کیا تھا۔جوں جوں براہین پڑھتے جاتے تھے۔عیسائیت کا رنگ اترتا جاتا اور اسلام کا رنگ چڑھتا جاتا تھا۔حضرت اقدس کی خدمت میں قادیان حاضر ہوئے اور بیعت کر لی۔آپ ہی کی تحریک سے لیکھرام سے متعلق پیشگوئی پوری ہونے کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے بھی مارچ ۱۸۹۷ء میں بیعت کر لی۔مولوی رسل با با امرتسری پر اتمام حجت او پر امرتسر کے علماء حضرات میں رسل بابا کا ذکر آچکا ہے یہ کشمیری خاندان کے ساتھ تعلق رکھتے تھے ان کا نام غلام رسول تھا اور رسل با با عرف تھا۔یہ مسجدخان محمد شاہ مرحوم میں امام مسجد تھے ان کو کشمیری معتقدین نے مجبور کیا کہ حضرت مسیح کی حیات پر کوئی کتاب لکھیں چنانچہ انہوں نے حیات امسیح “ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔اور کتاب کے لا جواب ہونے کے فرضی ادعا کیلئے ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی مقرر کیا۔حضرت اقدس کی خدمت میں جب یہ رسالہ پہنچا تو حضور نے اس کا جواب لکھنے کا اعلان فرمایا۔اور فرمایا کہ رسل بابا کو چاہئے کہ انعامی رقم امرتسر کے معزز وممتاز روساء خان بہادر شیخ غلام حسن اور خان بہادر خواجہ یوسف شاہ اور حاجی میر محمود صاحب کے پاس آخر جون ۹۴ ء تک جمع کرا دیں اور ان کو اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی ایک دو تخطی تحریر میرے پاس اس مضمون کی بھجوا دیں کہ ہم نے ایک ہزار روپیہ وصول کر لیا ہے اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کا غلبہ ثابت ہونے کے وقت یہ ایک ہزار روپیہ مرزا صاحب کو بلا توقف دیدیں گے اور رسل بابا کا اس میں کچھ تعلق نہ ہو گا۔حضور نے فرمایا کہ میں اس فیصلہ کے لئے ثالث مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ہی مقرر کرتا ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ ایک جلسہ عام کر کے مولوی صاحب موصوف اس مضمون کی قسم کھاویں کہ : اے حاضرین! بخدا میں نے اوّل سے آخر تک دونوں رسالوں کو دیکھا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ در حقیقت مولوی رسل بابا کا رسالہ یقینی اور قطعی طور پر حضرت عیسی کی زندگی ثابت کرتا ہے اور جو مخالف کا رسالہ نکلا ہے اس کے جواب سے اس کی بیخ کنی نہیں ہوتی اور اگر