حیات طیبہ — Page 169
169 حکیم صاحب فرماتے رہے۔قادیان چل لیکن میں نہ گیا۔‘ 1 پھر فرماتے ہیں: میں انجمن حمایت اسلام مدراس کے سالانہ جلسہ میں شریک ہونے کے لئے حسب دعوتِ انجمن چلا جار ہا تھا تو بمبئی میں جناب عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا سیٹھ صاحب سے سے ملاقات ہوئی۔معلوم ہوا کہ جلسہ انجمن ایک ماہ کے لئے ملتوی ہو گیا ہے۔جناب سیٹھ صاحب نے مجھ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں ان کے ساتھ ہندوستان کے مشہور شہروں کی سیر کروں اور ان کے ساتھ قادیان شریف بھی جاؤں۔جناب عبدالرحمن سیٹھ صاحب کا ارادہ تھا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے بیعت کریں۔پہلے تو میں نے حیلہ حوالہ کر کے اس سفر کی تکلیف سے بچنا چاہا لیکن سیٹھ صاحب نے مجھ کو خوب مضبوط پکڑا۔سیٹھ صاحب کو مجھ سے حسن ظن تھا۔وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ چل کر دیکھ کہ مرزا صاحب صادق ہیں یا کا ذب۔میں نے کہا۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل مجھ پر کیا ہے کہ میں چہرہ دیکھ کر آدمی کی باطنی کیفیت سے آگاہ ہو جاتا ہوں۔انسان سے سب کچھ ممکن ہے۔نیک بد ہو جاتا ہے اور بد نیک ہو جاتا ہے۔اگر مرزا صاحب وہ نہیں رہے جو میں نے ۱۸۸۷ء میں دیکھا تھا اور اگر ان میں دنیا داری مکاری آگئی ہے۔تو میں چہرہ دیکھ کر کہہ دوں گا۔سیٹھ صاحب نے فرمایا کہ اسی لئے تو میں تجھ کو ساتھ لے جانا چاہتا ہوں غرض میں عبدالرحمن سیٹھ صاحب کے ساتھ قادیان شریف روانہ ہوا۔راہ میں بمقام علیگڑھ کا نفرنس کا تماشا دیکھا اور امرتسر ہوتا ہوا قادیان شریف پہنچا۔ہاں امرتسر میں میں نے ایک خواب دیکھا۔کہ ایک پلنگ خاص جناب مرزا صاحب کا ہے۔حضرت صاحب مجھ سے فرماتے ہیں کہ اس پلنگ پر جا کر لیٹ رہو۔میں نے عرض کیا کہ میں یہ گستاخی کیونکر کروں کہ حضور کے بستر پر لیٹوں۔حضرت نے مسکرا کر فرمایا۔کہ نہیں جی کوئی مضائقہ نہیں۔تکلف کیوں کرتے ہو۔غرض تاریخ ۲/ جنوری ۱۸۹۴ء کو قادیان پہنچا۔جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے حسب دستور ہم سے ملاقات فرمائی۔میرے اور سیٹھ صاحب کے قیام کا بندوبست کیا۔اور نہایت محبت اور اخلاص سے باتیں کیں۔اس پہلی ملاقات میں ہی نگاہ دو چار ہوتے ہی ہمارے پیارے دوست جناب عبد الرحمن سیٹھ صاحب تو اس امام الوقت کے ہزار جان سے عاشق ہو گئے۔مجھ سے سیٹھ صاحب رساله تائید حق صفحہ ۶۵ سے حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی ایک نہایت ہی بزرگ انسان تھے۔سلسلہ کے فدائی تھے اور اسلامی خدمات کا بے پناہ جوش رکھتے تھے۔ان کے تقوی اور اخلاص کی وجہ سے حضرت اقدس نے انہیں صدر انجمن احمدیہ کا ٹرسٹ مقر فر ما یا تھا۔