حیات طیبہ

by Other Authors

Page 168 of 492

حیات طیبہ — Page 168

168 کے شیدائی اور بڑے عابد وزاہد اور صاحب تصنیف کے انسان تھے اور اپنے زمانہ میں شہرہ آفاق طلیق اللسان اور فصیح البیان واعظ۔ان کے ان اوصاف کا یہ عالم تھا کہ لوگ انہیں مسجد د خیال کرنے لگے اور ان سے کہتے بھی تھے کہ آپ تو اس صدی کے مجدد ہیں لیکن آپ اس سے انکار فرماتے تھے۔آپ کو اسلام سے ایسی محبت اور اس کی تبلیغ کا ایسا شوق اور جوش تھا کہ آپ نے ملازمت سے دستکش ہو کر تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں تبلیغی لیکچر دینے لگے۔حضرت اقدس کا نام آپ نے پہلی مرتبہ ۱۸۸۷ء میں امرتسر میں سنا۔ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی عازم قادیان ہو گئے۔آپ نے اپنے جذبات کا اظہار ایک رسالہ ” تائید حق“ میں کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھے تعجب سا گذرا۔ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔مجھ کو پان کھانے کی بُری عادت تھی۔امرتسر میں تو مجھے پان ملا لیکن بٹالہ میں مجھ کو پان کہیں نہ ملا۔ناچارالا بچی وغیرہ کھا کرصبر کیا۔میرے امرتسر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بری عادت کا تذکرہ کر دیا۔جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی کو روانہ کیا۔دوسرے دن گیارہ بجے دن کے وقت جب میں کھانا کھا چکا تو پان موجود پایا۔سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوائے گئے تھے۔“ مولاناحسن علی صاحب قادیان سے واپس ہو کر پھر اپنے محبوب مشغلہ اشاعت اسلام میں مشغول ہو گئے۔حتی کہ ۱۸۹۳ء کے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ میں حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی حقائق و معارف سے پر تقریر سنے کا موقعہ ملاتقریر کا آپ پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ تقریر کے بعد کھڑے ہو کر کہا کہ: مجھ کو فخر ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے عالم اور مفتر کو دیکھا۔“سے فرماتے ہیں: ”میری خواہش تھی کہ جناب مولوی حکیم نورالدین سے ملاقات کرتا لیکن مولوی صاحب از راہِ کرم خود اس خاکسار سے ملنے آئے۔میں نے ان سے تنہائی میں سوال کیا کہ مرزا صاحب سے جو آپ نے بیعت کی ہے اس میں کیا نفع دیکھا ہے؟ جواب دیا کہ ایک گناہ تھا جس کو میں ترک نہیں کر سکتا تھا۔جناب مرزا صاحب سے بیعت کر لینے کے بعد وہ گناہ نہ صرف چھوٹ گیا بلکہ اس سے نفرت ہوگئی۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب کی اس بات کا مجھ پر ایک خاص اثر ہوا۔ے چنانچہ ان کی ایک مشہور کتاب کا نام ”معراج المومنین بھی ہے کے رسالہ تائید حق صفحه ۵۴ سے رسالہ تائید حق صفحه ۶۴