حیات طیبہ — Page 143
143 نئے تغیرات بآسانی شناخت کئے جاسکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا بھی حامل ہے۔اس بات کا نہایت افسوس ہے کہ ہم میں سے بھی بعض کے ذہن اس (اسلام) کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔‘1 لارڈ بشپ آف گلوسٹر نے اپنی تقریر میں جس خطرہ کا اظہار کیا ہے۔یقیناً حضرت اقدس کی تصانیف’ازالہ اوہام “ اور ” آئینہ کمالات اسلام کا مطالعہ کر کے اور جنگ مقدس یعنی مباحثہ امرتسر کو بھی پڑھ کر جو عیسائیوں کی اس کا نفرنس سے پہلے ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا اور جس کا ذکر آگے آئے گا۔ہر عقلمند عیسائی کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہونا چاہئے۔کیونکہ ان تصانیف میں وفات مسیح کا اعلان کر کے الوہیت مسیح، ابنیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ کے عقائد کا نہایت ہی شد ومد سے رڈ کیا گیا ہے پھر اسلام کو اس کے صحیح رنگ میں اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس پر غیر مسلم نقادوں کو معقول اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر مستشرقین میں سے کوئی انصاف کے ساتھ حضرت اقدس کے پیش کردہ اسلام کا مطالعہ کرے تو اس کے لئے اسلام قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا۔۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی پیدائش۔۱۷۲۰ پریل ۱۸۹۳ء ۱/۲۰ پریل ۱۸۹۳ ء کو آپ کے ہاں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ پیدا ہوئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی پیدائش سے چار ماہ قبل آپ اللہ تعالی کا یہ الہام بطور پیشگوئی يَاتِي قَمَرُ الْأَنْبِيَاءِ وَامْرُكَ يَتَأَتَى يَسُرُّ اللهُ وَجْهَكَ وَيُنِيرُ بُرْهَانَکَ۔سَيُوْلَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنَى مِنكَ الْفَضْلُ انَّ نُوْرِئَ قَرِيب یعنی نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ تیرے چہرہ کو خوش کر یگا اور تیری برہان کو منور کرے گا۔عنقریب تیرے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور فضل تیرے نزدیک کیا جائے گا۔یقیناًمیرانور قریب ہے۔“ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک اور عملی اور روحانی مقابلہ کی دعوت اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت اقدس نے فقراء اور پیر زادوں پر حجت تمام کرنے کے لئے عربی زبان میں ایک خط التبلیغ “ کے عنوان سے شائع کیا تھا۔جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس خط کو دیکھا تو علمی ے پادریوں کی کانفرنس کی سرکاری رپورٹ ۱۸۹۴ صفحہ ۶۴