حیات طیبہ — Page 108
108 ہے۔ایسا موقعہ ملاقات کا اور نصیحت کا بار بار نہیں ملتا۔اب یہ موقعہ مل گیا۔مرزا صاحب کو تو بہ کرا کے ہی چھوڑیں گے اور عام لوگ۔مولوی پھنس گیا اور پھنس گیا۔خواہ طمع میں خواہ علم میں۔خواہ اور کسی صورت سے۔مرزا بڑا چالاک اور علم والا ہے۔وہ مولویوں کے گنڈوں پر نہیں ہے۔مولوی۔ایک زبان ہو کر۔مولوی صاحب مرزا کی خبر لینے کو گئے ہیں۔دیکھنا تو سہی۔مرزا کی کیسی گت بنتی ہے۔مولوی مرزا اسے علم میں کم نہیں ہے۔طامع نہیں ہے۔صاحب روزگار ہے۔خدا اور رسول کو پہچانتا ہے۔فاضل ہے۔مرزا کو نیچا دکھا کے آئے گا اور سوا ان کے جو کچھ کسی کے منہ میں آتا تھا۔وہ کہتا تھا اور ادھر خدا کی قدرت کا تماشا اور ارادہ الہی میں کیا تھا ؟ جب مولوی غلام نبی صاحب اندر مکان کے گئے تو چپ چاپ بیٹھے تھے۔مولوی صاحب۔حضرت آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ کہاں سے لیا ہے۔حضرت اقدس۔قرآن شریف سے اور حدیث شریف سے اور علماء ربانیین کے اقوال سے۔مولوی صاحب۔کوئی آیت قرآن مجید میں وفات مسیح کے بارے میں ہو تو بتلائیے۔حضرت اقدس۔لو یہ قرآن شریف رکھا ہے۔آپ نے قرآن شریف دو جگہ سے کھول کر اور نشانِ کاغذ رکھ کر مولوی صاحب کے ہاتھ میں دیا۔ایک مقام تو سورۃ آل عمران یعنی تیسرے پارہ کا تیسرا پاؤ اور دوسرا مقام سورۃ مائدہ کا آخری رکوع جو ساتویں پارہ میں ہے۔اوّل میں آیت يَا عِیسَی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور دوسرے میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْب عَلَيْهِمُ تھا۔مولوی صاحب دونوں مقاموں کی دونوں آئتیں دیکھ کر حیران اور ششدر رہ گئے اور کہنے لگے يُوَفِّيْهِمْ أُجُورَهُمْ بھی تو قرآن شریف میں ہے۔اس کے کیا معنی ہوں گے۔حضرت اقدس۔ان آیتوں کے جو ہم نے پیش کی ہیں۔اُن کے اور معنی ہیں اور جو آیتیں آپ نے پیش کی ہیں۔اُن کے اور معنی ہیں۔بات یہ ہے کہ یہ اور باب ہے۔اور وہ اور باب ہے۔ذرا غور کریں اور سوچیں۔مولوی صاحب۔دو چار منٹ سوچ کر کہنے لگے۔معاف فرمائیے۔میری غلطی تھی جو آپ نے فرمایا وہ صحیح ہے۔قرآن مجید آپ کے ساتھ ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔جب قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے تو آپ کس کے ساتھ ہیں۔مولوی صاحب رو پڑے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہچکی بندھ گئی اور عرض کیا کہ یہ خطا کار اور گنہگار بھی حضور کے ساتھ ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب روتے رہے اور سامنے مؤدب بیٹھے رہے۔۔۔۔۔جب دیر ہو گئی تو لوگوں نے فریاد کرنی شروع کر دی اور لگے آواز پر آواز دینے کہ جناب مولوی