حیات طیبہ — Page 101
101 مولوی نظام الدین صاحب کی تو آنکھیں کھل گئیں کہنے لگے: جب قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں ہے تو اتنادعویٰ تم نے کیوں کیا تھا۔اب میں کیا منہ لے کر مرزا کے پاس جاؤں گا۔اگر قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں ہے اور وہ تمہارا ساتھ نہیں دیتا بلکہ وہ مرزا صاحب کے ساتھ ہے اور اسی کا ساتھ دیتا ہے تو پھر میں بھی تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔اس صورت میں میں مرزا کا ساتھ دونگا یہ دنیا کا معاملہ نہیں دین کا معاملہ ہے جدھر قرآن شریف ادھر میں۔“ اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے ساتھ والے مولوی صاحب سے مخاطب ہوکر بولے کہ مولوی صاحب! یہ نظام الدین تو کم عقل آدمی ہے اس کو ابو ہریرہ والی آیت نکال کر دکھا دو۔مولوی نظام الدین بولے۔کہ مجھے ابو ہریرہ والی آیت نہیں چاہئے۔میں تو خالص اللہ تعالیٰ کی آیت لوں گا۔دونو مولوی بولے۔ارے بیوقوف! آیت تو اللہ تعالیٰ کی ہی ہے، لیکن ابوہریرہ نے اس کی تفسیر کی ہے۔مولوی نظام الدین صاحب بولے کسی تفسیر کی ضرورت نہیں وہ تو ایک شخصی رائے ہوئی۔مجھے زید یا بکر کی رائے یا قیاس سے واسطہ نہیں۔مرزا کا مطالبہ آیات قرآنی کا ہے پس مجھے تو قرآن کی صریح آیت حیات مسیح میں چاہئے۔جب کوئی آیت نہ ملی تو مولوی محمد حسین بٹالوی کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص تو ہاتھ سے گیا۔اس لئے مولوی محمد حسن صاحب کو جو غیر مقلد تھے اور لدھیانہ کے رئیس تھے۔مخاطب کر کے کہنے لگے کہ آپ اس کی روٹی بند کر دیں۔وجہ یہ تھی کہ مولوی نظام الدین صاحب کھانا مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کے ہاں سے کھایا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب کی یہ دھمکی من کر مولوی نظام الدین صاحب از راه ظرافت ہاتھ جوڑ کر بولے کہ ”مولوی صاحب! میں نے قرآن شریف چھوڑا۔روٹی مت چھڑاؤ یہ بات سُن کر بٹالوی صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔بالآخر مولوی نظام الدین صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔شرمندہ ہو کر سر جھکا کر بیٹھ گئے۔حضرت نے پوچھا کہ فرمائیے ہیں انہیں۔دس۔پانچ۔دو چار۔ایک آیت لائے۔مولوی صاحب پہلے تو چپ رہے۔پھر سارا ما جرا عرض کر کے کہا کہ اب تو جدھر قرآن شریف ہے ادھر میں ہوں۔یہ کہہ کر حضور کی بیعت کر لی۔ان کا بیعت کرنا تھا کہ مولویوں میں شور مچ گیا اور مباحثہ کی تیاریاں پہلے سے بھی زیادہ زور شور سے ہونے لگیں۔1 ل تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی