حیات طیبہ

by Other Authors

Page 76 of 492

حیات طیبہ — Page 76

76 اور شیخ حامد علی اور فتح خاں بہلی کے پاس رہے۔آپ مقبرہ پر پہنچ کر اس کا دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر صاحب قبر کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور تھوڑی دیر تک دُعا فرماتے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔جب میں نے دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دوزانو ہو کر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کر لیتا۔اُن کی آنکھیں موٹی موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے۔“ پھر فرمایا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اس سے ان کے حالات پوچھیں۔چنانچہ حضور نے مجاور سے دریافت کیا اس نے کہا کہ میں نے ان کو خود نہیں دیکھا۔کیونکہ ان کی وفات کو قریبا ایک سو سال گذر گیا ہے ہاں اپنے باپ یا دادا سے سنا ہے کہ سانولا رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں اور اس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔“ اے نشان رحمت یعنی پیشگوئی مصلح موعود اب میں پسر موعود کے متعلق حضور کی وہ مشہور و معروف پیشگوئی درج کرتا ہوں جو حضور نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں شائع فرمائی۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے جل شانہ وعزاسمہ نے اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری حضرعات کو سنا اور تیری دُعاؤں کو اپنی رحمت سے یہ پایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر ! تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تھا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا اُنہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پاک محمد مصطفیٰ کو انکار اور تکذیب کی راہ سے دیکھتے ہیں ایک سیرت المہدی حصّہ اوّل روایت ۸۸ حضرت میاں عبداللہ صاحب