حیات طیبہ — Page 65
65 مرزا سلطان احمد صاحب کا امتحان تحصیلداری میں پاس ہوتا تخمینا فروری ۱۸۸۴ء میں آپ کے بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد صاحب نے تحصیلداری کا امتحان دیا اور آپ کی خدمت میں پاس ہونے کے لئے بذریعہ خط دُعا کی درخواست کی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: مجھ کو وہ خط پڑھ کر بجائے رحم کے غصہ آیا کہ اس شخص کو دنیا کے بارے میں کس قدر ہم اور غم ہے چنانچہ اس عاجز نے وہ خط پڑھتے ہی بتمام تر نفرت و کراہت چاک کر دیا اور دل میں کہا کہ ایک دنیوی غرض اپنے مالک کے سامنے کیا پیش کروں۔اس خط کے چاک کرتے ہی الہام ہوا کہ وو پاس ہو جاوے گا اور وہ عجیب الہام بھی اکثر لوگوں کو بتلایا گیا چنانچہ وہ لڑ کا پاس ہو گیا۔فالحمدللہ 1 آپ کی دوسری شادی پیدا ہوئی۔آپ کو دوسری شادی کے متعلق الہامات تو ا۱۸۸ء سے ہو رہے تھے مگر اس کی تقریب جا کر ۱۸۸۴ ء میں ۱۸۱ء میں ایک الہام آپ کو یہ ہوا تھا کہ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَسِينٍ۔یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکا عطا کرنے کی خوشخبر دیتے ہیں۔انہی ایام میں دوسرا الہام یہ ہوا کہ أَشْكُرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِي یعنی میرا شکر کر تو نے میری خدیجہ کو پایا ایسا ہی ایک الہام یہ ہوا تھا کہ الْحَمْدُ للهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصَّهُرَ وَالنِّسَب یعنی سب تعریفوں کا مستحق اللہ ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق بھی ایک شریف خاندان سے کیا اور تمہاری اپنی نسب کو بھی شریف بنایا۔ه از مکتوب ارمئی ۱۸۸۴ء بنام نواب علی محمد خانصاحب آف جھجر - الحکم جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۲۳/ستمبر ۱۸۹۹ء تریاق القلوب صفحه ۳۴ سکے نزول المسیح صفحه ۱۴۶، ۱۴۷ س، تریاق القلوب صفحه ۶۴