حیات طیبہ

by Other Authors

Page 52 of 492

حیات طیبہ — Page 52

52 دوسرا باب تصنیف براہین احمدیہ سے لیکر بیعت اولی تک برامین احمدیہ کا پس منظر قبل اس کے کہ آپ کی مشہور تصنیف براہین احمدیہ کا ذکر کیا جائے اس کا پس منظر پیش کرنے کے لئے ہم ناظرین کو اس زمانہ کی مذہبی تحریکات کے مطالعہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔عیسائی تحریک کا تو گذشتہ صفحات میں ذکر کیا ہی جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ملک میں آریہ سماج اور برہمو سماج کی دو مشہور تحریکیں اور بھی پیدا ہو چکی تھیں اور ان تینوں کا مقصد اسلام کے خلاف صف آرا ہو کر اسلام پر مسلسل حملے کر کے مسلمانوں کو مذہب کی رُو سے مٹانے کی جد و جہد تھی۔اور اس کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں جو ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کو آلہ کار بنا کر انگریزی حکومت کے خلاف برپا کیا گیا تھا۔انگریز تو مسلمانوں سے پہلے ہی بدظن تھے۔ہندوؤں نے بھی اس موقعہ سے فائدہ اُٹھایا اور اپنی اس تحریک کے ذریعہ سے جس کی بنیاد چند ماہ قبل بمبئی کے مقام پر سوامی دیانند صاحب آریہ سماج کے نام سے رکھ چکے تھے۔چند سر کردہ ہند ولیڈروں کے مشورہ سے یہ پروگرام تجویز کیا کہ اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام پر دل آزار حملے کر کے مسلمانوں کے خلاف منافرت کی فضا قائم کی جائے اور حبّ الوطنی اور قومی ترقی کے نام سے ہندوؤں کی وسیع پیمانہ پر تنظیم کی جائے۔ایک مشکل اس سلسلہ میں پنڈت جی کو یہ پیش آئی کہ وید جو ہند و تنظیم کی بنیاد بن سکتے تھے۔اوّل تو ہندوؤں کی اکثریت ان کی زبان (سنسکرت) سے بالکل نا واقف تھی۔دوسرے ان میں مرورِ زمانہ کی وجہ سے اس قدر تغیر و تبدل ہو چکا تھا۔کہ ان کا ترجمہ بھی اگر کر دیا جاتا۔تو اس روشنی کے زمانہ میں اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا تھا۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے پنڈت دیانند صاحب نے ستیارتھ پرکاش کے نام سے ایک نئی تصنیف ہندوؤں کے سامنے پیش کی۔جس میں ویدوں کی تعلیمات اور عقائد کی دور از کار تاویلات کر کے ایک نئے ہندو نظریہ کی بنیاد رکھی گئی جسے اس زمانہ کے تعلیمیافتہ طبقہ نے اپنا نا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تحریک آہستہ آہستہ پھیلنی شروع ہوئی اور گو ہندوستان کے مختلف شہروں میں بھی اس ل دیکھئے تاریخ عروج عہد سلطنت انگلشیہ ہند صفحہ ۶۶ مطبوعہ ۱۹۰۴ - شمس المطابع دہلی۔