حیات طیبہ

by Other Authors

Page 50 of 492

حیات طیبہ — Page 50

50 آپ کا خطرناک بیماری سے معجزانہ طور پر شفا پانا ۱۸۸۰ء میں آپ پر قولنج کا ایک سخت حملہ ہوا۔بار بار حاجت ہو کر خون آتا تھا اور یہ حالت کم و بیش سولہ دن تک برابر رہی۔آپ کے ورثاء تین دفعہ آپ کو سورہ کیس سنا چکے تھے اور آخری مرتبہ تو انہیں پختہ یقین تھا کہ آج شام تک آپ قبر میں اُتار دیئے جائیں گے۔غرض جب حالتِ یاس و ناامیدی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور آپ کے عزیزوں نے دیواروں کے پیچھے کھڑے ہو کر رونا بھی شروع کر دیا تو آپ کو شافی مطلق کی طرف سے الہاما یہ دعا سکھلائی گئی سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ اور ساتھ ہی آپ کے دل میں یہ القاء ہوا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبات پڑھ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ اس سے تو شفا پائے گا۔آپ فرماتے ہیں :- جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا اور میں نے اسی طرح عمل کرنا شروع کیا۔جیسا کہ مجھے تعلیم دی ( گئی تھی اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں درد ناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اس حالت سے نجات ہو مگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلی مجھے چھوڑ گئی اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سو یا۔جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا۔وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَاتُوْا بِشِفَاءٍ مِنْ مِثْلِهِ یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرول ے تریاق القلوب صفحہ ۳۸٫۳۷