حیات طیبہ

by Other Authors

Page 48 of 492

حیات طیبہ — Page 48

48 مقدمہ ڈاکخانہ ۱۸۷۷ء میں امرتسر کے ایک عیسائی رلیا رام وکیل نے آپ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا۔جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: اس عاجز نے اسلام کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام رلیا رام تھا اور وہ وکیل بھی تھا اور امرتسر میں رہتا تھا اور اس کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا۔ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں۔بھیجا اور اس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا۔چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کے لئے تاکید بھی تھی اس لئے وہ عیسائی مخالفت مذہب کی وجہ سے افروختہ ہوا۔اور اتفاقاً اس کو دشمنانہ حملہ کی وجہ سے یہ موقعہ ملا کہ کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانوناً ایک مُجرم تھا۔لے جس کی اس عاجز کو بھی اطلاع نہ تھی اور ایسے مجرم کی سزا میں قوانین ڈاکخانہ کی رو سے پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید ہے سواس نے مُخبر بن کر افسران ڈاک سے اس عاجز پر مقدمہ دائر کرا دیا۔اور قبل اس کے جو مجھے اس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو۔رویا میں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لئے بھیجا ہے اور میں نے اُسے مچھلی کی طرح قتل کر واپس کر دیا ہے۔“ میں جانتا ہوں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر وہ مقدمہ جس طرز سے عدالت میں فیصلہ پایا وہ ایک ایسی نظیر ہے جو دوکیلوں کے کام آسکتی ہے۔غرض میں اس جرم میں صدر ضلع گورداسپور میں طلب کیا گیا اور جن جن وکلاء سے مقدمہ کے لئے مشورہ طلب کیا گیا۔انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ بجز دروغ گوئی کے اور کوئی راہ نہیں اور یہ صلاح دی کہ اس طرح اظہار دیدو کہ ہم نے پیکٹ میں خط نہیں ڈالا۔رلیا رام نے خود ڈال دیا ہوگا اور نیز بطور تسلی دہی کے کہا کہ ایسا بیان کرنے سے شہادت پر فیصلہ ہو جائے گا اور دو چار جھوٹے گواہ دے کر بریت ہو جائے گی۔ورنہ صورت مقدمہ سخت مشکل ہے اور کوئی طریق رہائی نہیں۔لے ڈاک خانہ کا یہ قانون آج کل نہیں ہے۔مگر جس زمانہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں اُس زمانہ میں یہ قانون تھا۔دیکھئے ایکٹ نمبر ۱۴، ۱۸۸۶ دفعہ ۵۶،۱۲