حیات طیبہ

by Other Authors

Page 40 of 492

حیات طیبہ — Page 40

40 کے بعد بذریعہ ڈاک ان کا خط مجھ کو ملا۔جس میں لکھا تھا کہ ایں عاجز برائے شما دُعا کردہ بود۔القاشد - وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ - فقیر راکم اتفاق مے افتد کہ بدیں جلدی القا شود۔ایس از اخلاص شما می بینم “1 یہ تو ابتدائی انکشافات تھے ورنہ اس کے بعد تو انہوں نے اپنے ایک مخلص ارادتمند (منشی محمد یعقوب صاحب ) کو باذنِ الہی یہاں تک بتلا دیا تھا کہ حضرت مرزا صاحب میرے بعد ایک عظیم الشان کام کے لئے مامور کئے جائیں گے۔نیز اپنی وفات سے چند دن قبل (فروری ۱۸۸۱ء میں ) اللہ تعالیٰ سے بذریعہ کشف خبر پاکر یہ پیشگوئی کی کہ:- ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا ہے مگر افسوس کہ میری اولا د اس سے محروم رہ گئی۔“ چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور نہ صرف یہ کہ آپ کی اولا د حضرت اقدس کو قبول کرنے سے محروم رہ گئی بلکہ اس نے حضور کی مخالفت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔حضرت مولوی صاحب نے ۱۵/ فروری ۱۸۸۱ ء کو وفات پائی اور امرتسر میں بیرون دروازہ سلطان ونڈ میں آپ کو سپر د خاک کیا گیا۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔آپ کے والد ماجد کی وفات۔جون ۱۸۷۶ء اوائل جون ۷۶ A ء کا ذکر ہے۔آپ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں لاہور تشریف لے گئے۔ابھی آپ لاہور میں ہی تھے کہ ایک خواب کے ذریعہ آپ کو بتلایا گیا کہ آپ کے والد صاحب کی وفات کا وقت قریب ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ”جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور ان کو مرض زیر میں مبتلا پایالیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے۔کیونکہ مرض کی شدت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔دوسرے دن شدت دو پہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرا آرام کرلو۔کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور سخت گرمی پڑتی تھی۔میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا۔کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا۔وَالسَّمَاء ے حقیقۃ الوحی طبع اول صفحه ۲۴۰،۲۳۹ ه حیات النبی جلد ۱ صفحہ ۸۲،۸۰