حیات طیبہ

by Other Authors

Page 39 of 492

حیات طیبہ — Page 39

39 تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔یعنی وہ ایک ٹور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نو ر تھا جواو پر سے نازل ہوا۔اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچانتی لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں۔جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔غرض اس حد تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے۔وہ انواع و اقسام کے مکاشفات تھے۔لہ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی اور بعض دوسرے بزرگوں سے ملاقات اس زمانہ میں حضرت اقدس نے بعض بزرگوں سے ملاقات کے لئے سفر کرنے شروع کئے اور آپ کے پاس بھی اہل اللہ کی آمد ورفت شروع ہو گئی۔ذیل میں اختصار کی خاطر ہم صرف ایک بزرگ کا ذکر کرتے ہیں اور وہ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی تھے۔یہ بزرگ ضلع غزنی (افغانستان ) کے ایک گاؤں گیرو نامی میں پیدا ہوئے چونکہ عبادت گزار اور ذکر الہی میں مشغول رہا کرتے تھے اور عاشق رسول تھے۔اس لئے ایک خواب میں انہوں نے صحیح بخاری کو غبار آلود دیکھا اور خواب میں ہی اسے صاف کرنا شروع کیا۔اس خواب کے بعد آپ نے صحیح بخاری کا کثرت سے مطالعہ کرنا شروع کیا۔غزنی کے ظالم علماء نے آپ کی یہ حالت دیکھ کر آپ کو وہابی مشہور کر کے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کر کے جلا وطن کر دیا۔جس پر آپ ہجرت کر کے امرتسر تشریف لے آئے۔سے اس بزرگ سے حضرت اقدس کی ملاقاتیں امرتسر اور اس کے نواحی گاؤں خیر دی میں ہوئیں۔حضرت ان ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔” جب وہ زندہ تھے ایک دفعہ مقام خیر دی میں اور دوسری دفعہ امرتسر میں ان سے میری ملاقات ہوئی میں نے انہیں کہا کہ آپ مکہم ہیں۔ہمارا ایک مدعا ہے۔اس کے لئے آپ دُعا کرو مگر میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا کہ کیا مدعا ہے۔انہوں نے کہا کہ در پوشیده داشتن برکت است و من انشاء اللہ دعا خواہم کر دو الہام امر اختیاری نیست اور میر امدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوۃ والسلام روز بروز تنریل میں ہے۔خدا اس کا مددگار ہو۔بعد اس کے میں قادیان میں چلا گیا۔تھوڑے دنوں کتاب البریہ صفحہ ۱۶۴ - ۶۶ ۱ حاشیہ سے سیرت ثنائی مرتبہ مولوی عبد المجید صاحب سوہدروی