حیات طیبہ

by Other Authors

Page 439 of 492

حیات طیبہ — Page 439

439 لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ آپ کی عمر وفات کے وقت آپ کے ایک مشہور الہام ثَمَانِينَ حَوْلًا اَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ أَوْ تَزِيْدَ عَلَيْهِ سِنِيْنًا ل کے مطابق آپ کی عمر شمسی حساب سے ۷۴ سال اور قمری حساب سے ۷۶ سال کی تھی۔اہل بیت کا صبر حضرت اماں جان نے صبر کا جو نمونہ دکھایا۔اُس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی نہایت ہی صبر کے ساتھ اس صدمہ کو برداشت کیا۔اور بجز یا حی و یا قیوم کے اور کوئی کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکلا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی باوجود اس سخت صدمہ کے نہایت استقامت اور استقلال کے ساتھ ضروری اُمور کے انتظام میں مصروف رہے۔اچانک وفات کا صدمہ حضور کے وصال کی خبر تمام شہر میں آنا فانا پھیل گئی۔مگر چونکہ حضور ۲۵ رمئی ۱۹۰۸ء تک با قاعدہ اپنے تصنیف کے محبوب مشغلہ میں مصروف رہے اور اس روز قبل شام حسب معمول سیر کے لئے بھی تشریف لے گئے تھے۔اس لئے باہر کے احباب تو الگ رہے۔لاہور کے احمدیوں کو بھی حضور کے وصال کا یقین نہیں آتا تھا اور وہ یہ دُعائیں کرتے کرتے احمد یہ بلڈنگس میں جمع ہورہے تھے کہ خدا کرے یہ افواہ غلط ہو۔مگر جب احمد یہ بلڈنگس میں پہنچتے تھے تو اس افواہ کو حقیقت پر مبنی جان کر دنیا ان کی نگاہوں میں تیرہ و تار ہو جاتی تھی اور وہ شدت غم سے دیوانوں کی طرح نظر آتے تھے۔جو لوگ حضرت اقدس کے خاص تربیت یافتہ تھے۔گوان کی آنکھیں بھی اشکبار تھیں۔مگر وہ وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جذبات کو روکے ہوئے تھے اور حضرت اقدس کے وصال کے بعد جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی تھیں۔ان کے انجام دینے میں مصروف تھے۔مخالفوں کی حالت یہ تو اہل جماعت کا حال تھا۔رہے غیر از جماعت لوگ تو وہ دو حصوں میں منقسم تھے۔ایک حصہ جو شریف له منقول از سلسله احمدیه از صفحه ۱۸۲ تا ۱۸۴ سے ترجمہ: یعنی تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا اس سے چند سال کم یا زیادہ