حیات طیبہ

by Other Authors

Page 438 of 492

حیات طیبہ — Page 438

438 مولوی حکیم نورالدین صاحب جو آپ کے خاص مقرب ہونے کے علاوہ ایک ماہر طبیب تھے ) کو بلوا ؤ۔اور یہ بھی فرمایا کہ محمود (یعنی ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) اور میر صاحب ( یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب جو حضرت مسیح موعود کے خسر تھے ) کو جگا دو۔چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے اور بعد میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی بلوالیا۔اور علاج میں جہاں تک انسانی کوشش ہو سکتی تھی وہ کی گئی مگر خدائی تقدیر کو بدلنے کی کسی شخص میں طاقت نہیں۔کمزوری لحظہ بہ لحظہ بڑھتی گئی۔اور اس کے بعد ایک اور دست آیا۔جس کی وجہ سے ضعف اتنا بڑھ گیا کہ نبض محسوس ہونے سے رُک گئی۔دستوں کی وجہ سے زبان اور گلے میں خشکی بھی پیدا ہوگئی۔جس کی وجہ سے بولنے میں تکلیف محسوس ہوتی تھی۔مگر جو کلمہ بھی اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا۔وہ ان تین لفظوں میں محدود تھا۔اللہ۔میرے پیارے اللہ اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔“ صبح کی نماز کا وقت ہوا۔تو اس وقت جبکہ خاکسار مؤلف (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے سلمہ الرحمن۔ناقل ) بھی پاس کھڑا تھا۔نحیف آواز میں دریافت فرمایا۔” کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ایک خادم نے عرض کیا۔ہاں حضور ہو گیا ہے۔اس پر آپ نے بسترے کے ساتھ دونوں ہاتھ تمیم کے رنگ میں چھو کر لیٹے لیٹے ہی نماز کی نیت باندھی مگر اسی دوران میں بیہوشی کی حالت ہو گئی۔جب ذرا ہوش آیا۔تو پھر پوچھا۔” کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے۔عرض کیا گیا۔ہاں حضور ہو گیا ہے۔پھر دوبارہ نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔اس کے بعد نیم بیہوشی کی کیفیت طاری رہی۔مگر جب کبھی ہوش آتا تھا۔وہی الفاظ۔اللہ میرے پیارے اللہ “ سنائی دیتے تھے اور ضعف لحظہ بہ لحظہ بڑھتا جاتا تھا۔آخر دس بجے صبح کے وقت نزع کی حالت پیدا ہوگئی اور یقین کر لیا گیا کہ اب بظاہر حالات بچنے کی کوئی صورت نہیں۔اس وقت تک حضرت والدہ صاحبہ نہایت صبر اور برداشت کیسا تھ دُعا میں مصروف تھیں اور سوائے ان الفاظ کے اور کوئی لفظ آپ کی زبان پر نہیں آیا تھا کہ ” خدا یا ان کی زندگی دین کی خدمت میں خرچ ہوئی ہے۔تو میری زندگی بھی ان کو عطا کر دے۔لیکن اب جبکہ نزع کی حالت پیدا ہوگئی تو انہوں نے نہایت درد بھرے الفاظ سے روتے ہوئے کہا۔”خدایا! اب یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں، لیکن تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔“ آخر ساڑھے دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود نے ایک دو لمبے لمبے سانس لئے اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب کی خدمت میں پہنچ گئی۔انا